غزہ امریکا کے ماتحت ہوگا، ٹرمپ کی شاہ عبداللہ سے ملاقات میں بھی ہٹ دھرمی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور غزہ کی تعمیر نو کے اپنے خیال کو دوگنا کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کو خریدنے نہیں جار ہے، غزہ امریکا کے ماتحت ہوگا، تاہم اردن کے شاہ عبداللہ نے خود کو اس منصوبے سے دور کرلیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اردن کے شاہ عبداللہ نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ امریکی صدر نے کہا کہ اردن اور مصر میں زمین کے کچھ حصے ایسے ہیں، جہاں فلسطینی آرام سے رہ لیں گے۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پر شاہ عبداللہ نے کہا کہ میں نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی بے دخلی کے خلاف اردن کے ثابت قدم موقف کا اعادہ کیا، یہ پورے عرب کا متحدہ موقف ہے۔ انہوں کہا کہ فلسطینیوں کو بے گھر کیے بغیر غزہ کی تعمیر نو اور سنگین انسانی صورتحال سے نمٹنا سب کی ترجیح ہونی چاہیے۔
تاہم اردن کے بادشاہ نے ٹرمپ کو بتایا کہ مصر اس منصوبے پر کام کر رہا ہے کہ خطے کے ممالک ٹرمپ کی حیران کن تجویز پر ان کے ساتھ کس طرح ’کام‘ کر سکتے ہیں۔
شاہ عبداللہ نے ٹرمپ کو مٹھائی بھی پیش کی، یاد رہے کہ ٹرمپ نے شاہ عبداللہ کے دورے سے ایک دن پہلے پناہ گزینوں کو قبول نہ کرنے کی صورت میں اردن کو دی جانے والی امریکی امداد روکنے کی دھمکی دی تھی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں