کووڈ کہاں سے لیک ہوا؟ امریکی سی آئی اے نے کورونا کی ابتدا پر اپنا مؤقف بدل لیا

امریکی سی آئی اے نے کورونا کی ابتدا پر اپنا مؤقف بدلتے ہوئے کہا کہ زیادہ امکان یہ ہے کہ کووڈ چین کی لیبارٹری سے لیک ہوا۔

سی آئی اے ترجمان نے اس دعوے کے بارے میں مکمل یقین کا اظہار کیے بغیر بتایا ہے کہ وائرس جانور سے منتقل ہونے اور تحقیقی مرکز سے نکلنے کے دونوں پہلوؤں پر کام جاری ہے۔

ایف بی آئی اور امریکی محکمہ توانائی بھی لیب سے اخراج کے نظریے کے حامی ہیں، باقی ایجنسیوں کی اکثریت جانوروں سے وائرس منتقلی کو کورونا وبا کی وجہ سمجھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں پولیوکا ایک کیس رپورٹ مجموعی تعداد 73 ہوگئی

2019 میں سب سے پہلے کورونا کے کیسز چین کے شہر ووہان میں سامنے آئے تھے جسے کورونا تحقیق کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے