سلطان محمود چوہدری کا ناروے سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا مطالبہ

 صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ ناروے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لئے اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ناروے کے پاکستان اور بھارت دونوں سے یکساں اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ جبکہ اوسلو ایکارڈ بھی ناروے میں ہوا تھا اسی طرح ناروے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی بند کرانے کے لئے بھی اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ناروے کا انسانی حقوق پر بہترین ٹریک ریکارڈ ہے لہذا ناروے انٹرنیشنل کمیونٹی کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی کوششیں کرے جبکہ اس سلسلے میں ناروے کی حکومت اور پارلیمنٹ بھی اپنا کردار ادا کرے۔  کشمیری عوام ایک طویل عرصے سے اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں لہذا ناروے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو اُن کا حق خودارادیت دلوانے کے لئے اپنا رول ادا کرے۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں ایوان صدر کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ناروے کے سابق وزیر اعظم کجل میگنے بونڈویک (Kjell Magne Bondevik) سے ایک تفصیلی ملاقات میں کیا۔ اس موقع پرملاقات میں ناروے کے پاکستان میں تعینات سفیرپرالبرٹ الساس(Per Albert Ilsaas)، ناروے پارلیمنٹ کے سابق ممبر پاکستانی نژاد عامر جاوید شیخ اور دیگر  بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ناروے کے وفد کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ میں نے بار ہا نارویجن پارلیمنٹ میں جا کر مسئلہ کشمیر پر نارویجن ممبران پارلیمنٹ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں آگاہ کیا اور میں آئندہ بھی سفارتی سطح پرمسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم انٹرنیشنل کمیونٹی کے سامنے لاؤں گا۔

صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ بھارت ایک عالمی دہشت گرد کے طور پر دنیا کے سامنے آیا ہے کیونکہ بھارت کینیڈا اور دنیا کے دیگر ممالک میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے جس کاثبوت کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کینیڈین پارلیمنٹ میں پیش کیا۔صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نہیں بلکہ سب سے بڑی آمریت ہے جو کہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ خود بھارت میں بھی اقلیتوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے۔ لہذا انٹرنیشنل کمیونٹی بھارت پر پابندیاں عائد کرے۔

صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ پاک بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کوئی بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ ایک ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جو جنوبی ایشیاء سمیت پوری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ لہذا ناروے انٹرنیشنل کمیونٹی کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ناروے نے ہمیشہ دنیا میں قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے اور امن کے شعبے میں نوبل ایوارڈ بھی ناروے میں ہی دیا جاتا ہے دنیا کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کی کنجی مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے۔ لہذا ناروے کشمیری عوام کو اُن کا حق خودارادیت دلوانے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

اس موقع پر ناروے کے سابق وزیر اعظم  کجل میگنے بونڈویک نے صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو ناروے کے دورے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی اور تاریخ کا تعین جلد کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے