جنوبی کوریا کے صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک ناکام
جنوبی کوریا کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے پیش کردہ تحریک کا حکومتی پارٹی نے بائیکاٹ کر دیا جس کے باعث ووٹنگ میں مطلوبہ تعداد پوری نہ ہو سکی اور تحریک ناکام ہو گئی۔ اپوزیشن نے دوبارہ مواخذے کی تحریک پیش کرنے کا اعلان کر دیا۔ حکومتی پارٹی کے رہنما نے بعد ازاں کہا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ صدر یُون مستعفی ہوں گے۔ حکومتی پارٹی کے رہنما ہان نے میڈیا سے گفتگو میں مارشل لا کا اعلان قانون کی سنگین خلاف ورزی تھا۔

جنوبی کوریا کے صدر نے منگل کی رات کو ملک میں مارشل لا نافظ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ ہفتے کے روز ٹیلیویژن پر قوم سے خطاب میں صدر یُون نے مارشل لا کے اقدام پر معذرت کی اور کہا کہ وہ کسی بھی سیاسی نتائج کا سامنا کرنے کو تیار ہیں، لیکن مستعفی ہونے کی پیشکش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی پر چھوڑتے ہیں کہ وہ سیاسی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے کوئی فیصلہ کرے۔مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش پر عوام نے شدید ردعمل دیا ۔

ہزاروں افراد نے پارلیمنٹ کے باہر سڑک پر مظاہرہ کیا ۔ عوام نے مواخذے کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ صدر کے مواخذے کیلیے اجلاس کے وقت پارلیمنٹ کے باہر ہزاروں مظاہرین جمع ہو گئے ، جو یُون کے مواخذے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا میں صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک ناکام ہونے پر عوام سڑکوں پر نکل آئے۔

اپوزیشن کے پاس دوتہائی اکثریت نہ ہونے پر مواخذے کی تحریک ناکام ہوگئی۔ صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک 11 دسمبر کو دوبارہ پیش کی جائے گی جس پر 14 دسمبر کو ووٹنگ ہوگی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں