10 سالہ سارہ شریف کا قتل، والد اور سوتیلی ماں مجرم قرار

برطانیہ میں پاکستانی نژاد 10 سالہ سارہ شریف کے قتل کے مقدمے میں والد اور سوتیلی ماں کو مجرم قرار دے دیا گیا۔ بدھ کے روز لندن کی اولڈ بیلی عدالت میں مقدمے کے دوران خوفناک تفصیلات سامنے آئیں جن میں سارہ کے ساتھ قتل سے پہلے ہونے والے شدید تشدد کا ذکر کیا گیا۔

سارہ کے والد عرفان نے ابتدا میں قتل کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ سارہ کو صرف نظم و ضبط کے لیے تھپڑ مارتے تھے۔ سوتیلی والدہ بتول کے وکیل کی جرح کے دوران عرفان نے اپنی بیٹی کی موت کی مکمل ذمہ داری قبول کر لیسارہ کی لاش اگست 2023 میں ووکنگ کے علاقے میں ان کے گھر سے ملی تھی۔

 

یہ بھی پڑھیں:شام سے 4000 ایرانی شہریوں کا انخلا

استغاثہ کے مطابق، اسے طویل عرصے تک بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ قتل کے فوراً بعد خاندان پاکستان فرار ہو گیا لیکن ستمبر 2023 میں دوبارہ دبئی سے لندن آنے پر ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔مقدمے کے آغاز پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سارہ کو مختلف قسم کی شدید چوٹیں آئیں، جن میں جلنے کے نشانات، ہڈیوں کے ٹوٹنے اور کاٹنے کے نشان شامل تھے۔سارہ کے والد عرفان شریف اور اہلیہ بینش بتول پر قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا جسے ملزموں نے مسترد کیا۔


جیوری نے انہیں سارہ کے قتل کا مجرم قرار دیا۔ سارہ کے چچا فیصل ملک کو قتل کے الزام سے بری کر دیا گیا ، لیکن انہیں سارہ کی موت میں ملوث ہونے یا اسے روکنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے