اسرائیل کی شام کے دفاعی مراکز پر حملے، 300 سے زائد مقامات کی تباہی اور فوجی صلاحیت کا خاتمہ
اسرائیل کی جانب سے شام کی فوجی تنصیبات، ہوائی جہاز، فوجی املاک اور دیگر اہم دفاعی مراکز کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا عمل حالیہ دنوں میں شدت اختیار کر گیا ہے
۔ اسرائیل نے شام کی دفاعی طاقت کو ایک بڑے حملے میں نشانہ بنایا ہے جس میں 300 سے زائد مقامات کو تباہ کیا گیا۔ ان حملوں میں شام کے میزائل پروڈکشن فیکٹریاں، فضائی و بحری اڈے، جنگی جہاز، ہیلی کاپٹر، ایئر ڈیفنس سسٹمز اور ملٹری ریسرچ سنٹر شامل ہیں۔
یہ حملے اس بات کا غماز ہیں کہ اسرائیل کا مقصد اب صرف بشار الاسد کی حکومت نہیں بلکہ شام کی دفاعی طاقت کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، شام میں موجود باغی گروہ پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر چکے ہیں، جو اسرائیل کو اپنی فوجی کارروائیوں میں مزید آزادی فراہم کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی فورسز کا شام پر تاریخ کا سب سے بڑا حملہ، فوجی تنصیبات اور ہوائی اڈے تباہ
اسرائیل نے اپنی پیادہ فوج کو گولان ہائٹس کے علاقوں میں مزید علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے روانہ کیا اور اس کے بعد اپنی فضائیہ کے ذریعے شام کی اہم دفاعی تنصیبات کو تباہ کر کے شام کی دفاعی طاقت کو کمزور کر دیا۔ اس کے نتیجے میں شام کی فوجی صلاحیت میں شدید کمی آئی ہے اور اسے غیر مسلح کرنے کے عمل میں تیزی آئی ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں