شام میں بعث پارٹی کا 61 سالہ دورحکومت ختم
شامی جنگجوؤں نے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کر لیا ، شام کی افواج مزاحمت نہ کر سکیں۔۔ 54 سال بعد الاسد خاندان کے اقتدار کا سورج غروب ہو گیا ، 24 سال تک شام پر حکومت کرنے والے صدر بشارالاسد کے محل میں شہری داخل ہو گئے ۔
سوشل میڈیا پر بشار الاسد کے دمشق سے حمص فرار ہونے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں ، فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کی اطلاعات کے مطابق دمشق کے ہوائی اڈے سے ایک طیارہ اڑا جو مغربی حمص کے اوپر دکھائی دیا لیکن بعد میں ریڈار سے غائب ہو گیا ۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ طیارہ بشار الاسد کو لے جا رہا تھا۔ طیارے نے 1,600 فٹ کی بلندی پر پہنچنے کے بعد ریڈار سے غائب ہونے سے پہلے غیر معمولی حرکات کیں۔

ہفتے کی شب دمشق کے مختلف علاقوں میں حکومت مخالف احتجاج ہوا جس کے بعد حکومتی فورسز نے وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور بین الاقوامی ہوائی اڈے جیسے اہم مقامات سے پسپائی اختیار کرلی۔ اس دوران، مظاہرین نے بدنام زمانہ سیدنایا جیل پر دھاوا بول کر قیدیوں کو آزاد کرا لیا ۔ بشارالاسد کے خوف سے شام چھوڑ کر لبنان اور اردن پناہ لینے والے شہری بھی اپنے وطن واپس آنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:شامی باغیوں کا سرکاری ٹی وی پر فتح کا اعلان، تمام قیدیوں کیلئے عام معافی
دمشق کے علاوہ، شامی جنگجوؤں نے حلب کے مرکزی علاقوں پر کنٹرول قائم کیا ، جبکہ ادلب صوبے میں بھی حکومت کا اثر ختم ہو گیا ۔ جمعرات کے روز شدید جھڑپوں کے بعد حما شہر کے مرکز پر اپوزیشن نے قبضہ حاصل کر لیا تھا۔

بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی اسرائیل نے شام کے ساتھ سرحد کے بفرزون پر فوج تعینات کر دی۔ بفر زون کا رقبہ 235 مربع کلومیٹر ہے جو مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کو شام سے الگ کرتا ہے۔
باغیوں نے دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر بھی دھاوا بولا ، عراق نے شام میں تعینات سفارتی عملے کو فوری لبنان منتقل کردیا ہے۔ جنوبی شام میں بھی جنگجوؤں نے دارا اور السویدا صوبوں پر مکمل کنٹرول حاصل کیا۔ صوبہ قنیطرہ میں بھی مقامی باغیوں نے صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کرلیا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں