امریکا نے سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کر دی
امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کر دی، جس پر بائیڈن انتظامیہ کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ قرارداد 15 رکنی کونسل کے 10 غیر مستقل اراکین نے پیش کی تھی اور اس میں جنگ بندی کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
قرارداد کے حق میں 14 ممالک نے ووٹ دیا، لیکن امریکا نے اپنے مستقل رکن کے حق کو استعمال کرتے ہوئے قرارداد کو مسترد کر دیا۔
امریکی نائب سفیر رابرٹ ووڈ نے وضاحت دی کہ واشنگٹن صرف ایسی قرارداد کی حمایت کرے گا جو جنگ بندی کے ساتھ یرغمالیوں کی فوری رہائی کی شرط کو شامل کرے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے یرغمالیوں کی رہائی ناگزیر ہے ۔ یہ قرارداد اس اہم شرط کو نظر انداز کرتی ہے، اس لیے امریکا اسے قبول نہیں کر سکتا تھا۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے ووٹنگ سے قبل اس قرارداد کو امن کے لیے نہیں بلکہ حماس کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیا۔
دوسری جانب فرانس کے سفیر نے امریکی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسترد کی گئی قرارداد میں یرغمالیوں کی رہائی کی واضح شرط شامل تھی ۔
اسرائیلی فوج کےلبنان میں وائٹ فاسفورس ہتھیاروں کے استعمال کا انکشاف
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں