کیمی بیڈنوچ کنزرویٹو پارٹی کی پہلی سیاہ فام خاتون رہنما منتخب
کیمی بیڈنوچ برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کی نئی سربراہ بن گئیں، انہوں نے کسی بھی بڑی برطانوی سیاسی جماعت کی سربراہی کرنے والی پہلی سیاہ فام خاتون بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔ ہفتے کو پارٹی قیادت کا انتخاب جیت کر انہوں نے پارٹی کو اس کے اصولی مقاصد پر واپس لانے کا وعدہ کیا۔44سالہ بیڈنوچ نے سابق وزیر اعظم رشی سوناک کی جگہ لی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پارٹی کو تجدید کے عمل سے گزاریں گی ۔
ان کا کہنا ہے کہ پارٹی نے بائیں بازو کی طرز حکمرانی کی جانب مائل ہوکر اپنے بنیادی اصولوں سے انحراف کیا ۔ بیڈنوچ کنزرویٹو پارٹی کی پانچویں سربراہ بنی ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے ارکان کے 57 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف سابق امیگریشن وزیر رابرٹ جینرک نے 43 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔ ان کی جیت پر لیبر وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ ایک سیاہ فام کا ویسٹ منسٹر پارٹی کی پہلی سربراہ بننا ہمارے ملک کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔
کنزرویٹو پارٹی کانفرنس میں بیڈنوچ سے پارٹی کی پہلی سیاہ فام خاتون رہنما بننے کے احساس کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتی ہوں کہ ہماری جلد کا رنگ ہمارے بالوں یا آنکھوں کے رنگ سے زیادہ اہمیت نہ رکھے۔اپنے حامیوں سے خطاب میں بیڈنوچ نے کہا کہ پارٹی کے مسائل کا مقابلہ کھلے انداز میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سچ بولنے کا وقت آ گیا ہے، اب کام کرنے اور تجدید کا وقت ہے۔
بیڈنوچ کے سخت گیر نظریات اور واضح موقف کی وجہ سے ان کے حامی اور ناقد دونوں ہی ہیں۔ حالیہ انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو 650 نشستوں کے پارلیمان میں 365 کے بجائے 121 نشستیں ملیں۔بیڈنوچ نے پارٹی کے ارکان کو بتایا کہ ہمارا پہلا فرض یہ ہے کہ ہم لیبر حکومت کو جوابدہ ٹھہرائیں اور دوسرا یہ کہ ہم اگلے چند سالوں میں حکومت سنبھالنے کی تیاری کریں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں