سویڈن اور ڈنمارک میں کزنز میرج پر پابندی
سویڈن کے حکام نے کزنز کی شادی پر پابندی کی سفارش کی ، سویڈن میں ایک تحقیق سے یہ ظاہر ہوا کہ لڑکیوں اور خواتین کو ان شادیوں میں عزت کے نام پر ظلم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایک دن بعد، ڈنمارک کی حکمران جماعت نے بھی کزنز میرج پر پابندی کیلیے اقدامات کا اعلان کر دیا ۔ حکام نے کہا کہ وہ بھی کزنز کے درمیان شادیوں پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دونوں ممالک اپنے اسکینڈینیوین ہمسایہ ناروے کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔ ناروے میں اس موسم گرما میں قریبی رشتہ داروں کزنز کے درمیان شادی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔تحقیق کے بعد، سویڈن کے وزیر انصاف نے کہا کہ کزنز کے درمیان شادی اکثر انفرادی آزادیوں کو محدود کرتی ہے۔ سویڈن کے سویڈ کورٹ آف اپیل کی نائب صدر این کٹنکیولر نے کہا کہ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کزنز کی شادیاں اکثر طے شدہ ہوتی ہیں ، فیصلہ انفرادی نہیں بلکہ زیادہ تر خاندان کا ہوتا ہے۔
سویڈن کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 140-150 ایسی شادیاں ہیں ، لیکن ایک جج نے کہا کہ یہ اعداد و شمار قابل بھروسہ نہیں ہیں اور اصل تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔سویڈن کی حکومت نے جولائی 2026 سے کزنز کی شادی پر پابندی کی تجویز دی ہے۔ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے کہا کہ ان کی حکومت بھی کزنز کی شادی پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے لیکن قانون کو تیار کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پر احتیاط سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ شادیوں کے طریقے مختلف نسلوں میں مختلف ہوتے ہیں ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں