ارجنٹائن کے ساحل پر پلاسٹک کا کچرا سمندری جانوروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ
ارجنٹینا کے پیٹاگونیا میں واقع جزیرہ نما والڈیز کے ساحل پر ماہی گیری کی صنعت سے پیدا ہونے والے پلاسٹک نے ساحل کو ڈھانپ لیا۔یونیسکو کی طرف سے عالمی ورثہ قرار دئیے جانے والے اس علاقے کے ساحل پر ماہر گیروں کی طرف سے سمندر میں پھینکے گئے کریٹس ، جال اور دیگر اوزار بکھرے ہوئے ہیں ، جو سمندری لہروں کے ساتھ بہہ کر ساحل پر آتے ہیں۔پلاسٹک کے ڈھیر سمندری شیروں ، مچھلیوں، پینگوئنز اور وہیلز کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کے لیے بھی مضر ثابت ہو رہے ہیں۔

ساحل پر مضر پلاسٹ سے کئی سمندری جانور ہلاک ہو چکے ہیں ۔ بیونس آئرس سے 1,000 کلومیٹر جنوب میں واقع جزیرہ نما والڈیز ملک کے اہم سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ اس علاقے کے سمندر میں سیدھی وہیل ، سمندری شیر اور پینگوئنز پائے جاتے ہیں۔ علاقے کو سمندری جانوروں کے تحفظ کا علاقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔ ارجنٹائن کے سائنسی ادارے کونسیٹ کا کہنا ہے کہ ساحل پر موجود پلاسٹک سے طویل مدتی خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ پلاسٹک ٹوٹ کر مائیکرو پلاسٹک بن سکتے ہیں جو سمندری جانوروں کے ساتھ انسانوں کیلیے بھی خطرناک ہیںجانوروں کیلیے کام کرنے والی ایک تنظیم 2020 کی ایک تحقیق کے مطابق سمندروں میں پھینکے جانے والے پلاسٹک کے کچرے کی مقدار اگلے 20 سال میں تین گنا ہو سکتی ہے ، جو سمندری حیات کے لیے مہلک ثابت ہوگی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں