مقبوضہ جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے 11 افراد جاں بحق

مقبوضہ جموں و کشمیر کے اضلاع ریاسی اور رام بن میں شدید بارشوں کے باعث بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور متعدد مکانات تباہ ہو گئے۔ جاں بحق افراد میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد بھی شامل ہیں۔

ریاسی کے علاقے ماہوڑ کی بددر گاؤں میں 38 سالہ نذیر احمد کے گھر پر رات گئے لینڈ سلائیڈنگ آ گری، جس کے نتیجے میں نذیر احمد، ان کی اہلیہ اور 5 کم عمر بچے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے۔

بچوں کی عمریں 5 سے 13 برس کے درمیان تھیں۔ ریسکیو ٹیموں نے لاشیں ملبے سے نکال لی ہیں۔ رام بن ضلع کے راج گڑھ گاؤں میں بادل پھٹنے کے بعد آنے والے طغیانی ریلے نے ایک اسکول اور متعدد مکانات کو لپیٹ میں لے لیا۔

اس حادثے میں 5 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک شخص تاحال لاپتہ ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں اوم راج، ودھیا دیوی اور دو دیگر مقامی شہری شامل ہیں۔حالیہ ہفتوں میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث خطے میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد یاتریوں کی بھی ہے۔

ریلوے سروس کٹرا سے ملک کے دیگر حصوں تک پانچویں روز بھی معطل ہے جبکہ سری نگر-جموں نیشنل ہائی وے کئی مقامات پر تباہی کے باعث بند پڑا ہے۔حکام کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اہم شاہراہ کب بحال ہو گی۔صورت حال کے پیشِ نظر جموں ڈویژن کے تمام سرکاری و نجی سکول 30 اگست تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے