او آئی سی اجلاس میں سعودی عرب کا کردار لائق تحسین ہے: فلسطینی سفیر
غزہ میں جاری سنگین انسانی مظالم، نسل کشی اور اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مکمل قبضے سے متعلق جاری کیے گئے حالیہ بیانات کے تناظر میں گزشتہ روز سعودی عرب کے شہر جدہ میں اِسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کا 21 واں غیر معمولی اجلاس ہوا۔
اجلاس میں اسرائیل کے غزہ پر مکمل فوجی کنٹرول کے منصوبوں اور ’گریٹر اسرائیل‘ کے تصور کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
جدہ میں ہونے والے اِس اجلاس کے بعد پاکستان میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر زہیر زید نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے جدہ میں ہونے والے اجلاس کے مثبت نتائج کو قابلِ تعریف اور لائقِ تحسین سمجھتا ہوں اور بین الاقوامی طور پر یہ اہم سیاسی عمل شروع کرانے میں سعودی عرب کے مرکزی کرادار پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
ڈاکٹر زہیر زید نے کہاکہ اِسلامی تعاون تنظیم کے برادر اِسلامی مُلکوں کی جانب سے مِلنے والی مسلسل حمایت ہمارے لیے بہت قیمتی ہے اور یہ ہمارے مشترکہ مقصد کے حصول میں مددگار ہے۔ اِسلامی تعاون تنظیم اِجلاس نے ثابت کیاکہ مسلم اقوام مسئلہ فلسطین کے حل، فلسطین میں قیامِ امن اور فلسطینیوں کے لیے انصاف کے حصول کے لیے متحد ہو کر پوری قوّت سے کھڑی ہیں۔
ڈاکٹر زہیر زید نے کہاکہ او آئی اجلاس نے پوری قوّت سے اُصول کا اعادہ کیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے بین الاقوامی برادری کو پوری اور غیر متزلزل حمایت مہیا کرنی چاہیے، خاص طور پر جب ستمبر میں ہم اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اس مسئلے کو پیش کرنے جا رہے ہیں۔
فلسطینی سفیر نے کہاکہ ہم سلامتی کونسل کے رکن ممالک خصوصاً پاکستان، دیگر مسلمان اور دوست ممالک کے کردار پر اُنہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہم سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی بین الاقوامی امن کانفرنس کو خوش آئند قرار دیتے ہیں اور یہ پائیدار امن کے لیے ایک اہم موقع ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں