غزہ: اسرائیل کا النصر ہسپتال پر حملہ 4 فلسطینی صحافیوں سمیت 14 شہید

غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جنوبی غزہ کے النصراسپتال پر بمباری میں کم از کم 14 افراد شہید ہو گئے ہیں، جن میں 4 فلسطینی صحافی بھی شامل ہیں۔

غزہ کی سرکاری میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ ناصر اسپتال پر اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والوں میں 4 صحافی بھی شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا: ناصر اسپتال کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں چار صحافیوں کی شہادت کے اعلان کے بعد شہید صحافیوں کی تعداد بڑھ کر 244 ہو گئی ہے۔میڈیا آفس نے شہید صحافیوں کے نام جاری کیے:

حسام المصری(فوٹو جرنلسٹ، رائٹرز)، محمد سلامہ(فوٹو جرنلسٹ الجزیرہ)، مریم ابو دقہ(متعدد اداروں سے وابستہ صحافی) اور  معاذ ابو طہ(این بی سی نیٹ ورک)۔

بیان میں مزید کہا گیا ’یہ صحافی ساتھی اس وقت شہید ہوئے جب اسرائیلی قبضہ کاروں نے خان یونس گورنریٹ کے ناصر اسپتال میں کوریج کے دوران موجود صحافیوں کے ایک گروپ کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ اس خوفناک جرم میں کئی دیگر افراد بھی شہید ہوئے۔‘

غزہ کے حکام نے الزام عائد کیا: ’ہم اسرائیلی قبضے، امریکی انتظامیہ اور اُن ممالک کو—جو اس نسل کشی کے جرم میں شریک ہیں جیسے برطانیہ، جرمنی اور فرانس—ان بربریت پر مبنی سنگین جرائم کے ارتکاب کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔‘

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں دوا، خوراک اور سہولیات کی شدید کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی مسلط کردہ قحط کے باعث بچوں کو بھوک سے مرنے سے نہیں روک پا رہے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے بڑے حصوں، خصوصاً زیتون اور صبرہ کے محلّوں میں حملے تیز کر دیے ہیں۔ مقصد شہر پر قبضہ اور آبادی کو مزید جنوب کی طرف دھکیلنا بتایا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے