پاکستان کیساتھ تعلقات میں امریکی ثالثی ناقابلِ قبول:بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر
بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی تیسرے ملک کی ثالثی قبول نہیں کرتا۔ جنگ بندی بھارت اور پاکستان کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے ہوئی۔
اکانومک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی تیسرے ملک کی ثالثی قبول نہیں کرتا۔
’1970 کی دہائی سے لے کر اب تک 50 سال سے زائد عرصے سے بھارت میں قومی اتفاقِ رائے ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کسی قسم کی ثالثی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔‘
بھارتی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ’آپریشن سندور‘ کے بعد امریکا سمیت کئی ممالک کی طرف سے رابطے کیے گئے تھے لیکن وہ محض سفارتی رابطے تھے، مذاکرات یا ثالثی نہیں۔ جنگ بندی بھارت اور پاکستان کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے ہوئی نہ کہ کسی امریکی مداخلت سے۔ میرے ہر امریکی رابطے کی تفصیل میرے ’ا یکس‘ اکاؤنٹ پر موجود ہے۔ ‘
بھارتی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے امریکا اور پاکستان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک اپنی تاریخ کو بار بار نظرانداز کرنے کے عادی ہیں۔جے شنکر نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی وقتی سہولت یا سیاسی مجبوری پر نہیں بلکہ طویل المدتی اعتماد اور مضبوط ڈھانچے پر مبنی ہے۔
جے شنکر نے کہا:’جب ممالک سہولت کی سیاست کرتے ہیں تو کبھی یہ اور کبھی وہ کرنے لگتے ہیں۔ لیکن میں ہمیشہ اپنی طاقت اور اپنے تعلقات کی اہمیت کو یاد رکھتا ہوں۔ دن کے آخر میں مجھے اپنی قوت اور تعلقات کی اہمیت کا بخوبی علم ہے۔‘
جے شنکر نے اپوزیشن کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بھارت اپنی اسٹریٹجک خودمختاری، کسانوں کے حقوق اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
بھارتی وزیرِ خارجہ نے کہا:’جب بات کسانوں کے مفادات، اسٹریٹجک خودمختاری یا ثالثی کی مخالفت کی آتی ہے تو ہماری حکومت کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ اگر کوئی ہم سے اختلاف کرتا ہے تو عوام کو بتائے کہ وہ کسانوں کے مفادات کا دفاع کرنے کو تیار نہیں، یا اسٹریٹجک خودمختاری کو اہمیت نہیں دیتا۔ ہم اپنی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔‘
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں