امریکی ہوائی اڈوں کو رن ویز کے دھنسنے کا چیلنج درپیش، نئی تحقیق میں انکشاف
ورجینیا ٹیک کی نئی تحقیق کے مطابق امریکا کے بڑے ہوائی اڈوں کے رن ویز غیر یکساں انداز میں دھنس رہے ہیں، جس کے باعث فضائی سفر کو بڑھتے ہوئے حفاظتی خطرات اور مرمت کے زیادہ اخراجات کا سامنا ہے۔
ارتھ اینڈ اسپیس سائنس میں شائع ہونیوالی اس تحقیق میں ریڈارسیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کے 15 مصروف ترین ہوائی اڈوں پر زمین کی عمودی حرکت کا سراغ لگایا گیا۔
نتائج کے مطابق زیادہ تر رن وے کم خطرے میں ہیں، تاہم تقریباً 3.9 فیصد رن ویز درمیانے سے زیادہ نقصان کے خطرے سے دوچار ہیں، جن کی وجہ زمین کا دھنس جانا ہے۔
سان فرانسسکو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دھنسنے کی سب سے تیز رفتار ریکارڈ کی گئی، جو سالانہ 9.2 ملی میٹر ہے، جبکہ میامی اور فلاڈیلفیا ایئرپورٹس میں رن ویز کا سب سے زیادہ حصہ اس مسئلے سے متاثر ہے، دوسری طرف لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سب سے سست رفتار یعنی سالانہ صرف 2 ملی میٹر کے حساب سے دھنس رہا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور جیوسائنسز کے گریجویٹ طالب علم اولوواشی ڈاشو کے مطابق رن وے کی اونچائی میں معمولی اور غیر یکساں تبدیلیاں بھی طیاروں کی کارکردگی اور حفاظت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ’ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ مسلسل نگرانی کتنی ضروری ہے تاکہ مرمت بروقت ہو سکے اور مسئلہ بڑھنے سے پہلے حل ہو جائے۔‘
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انٹرفیرومیٹرک سنتھیٹک اپرچرریڈارجیسی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کم لاگت اور تقریباً فوری طور پر انفرا اسٹرکچر کی کمزوریوں کا پتا لگانے اور انہیں بغیر آپریشن میں خلل ڈالے سنبھالنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف اور جیوسائنسز کے پروفیسر، منوچر شیرزائی سمجھتے ہیں کہ پیشگی نگرانی ہمیں خطرات جلد شناخت کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے وقت، پیسہ اور ممکنہ طور پر جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب امریکی ہوائی اڈے شدید موسمی حالات اور پرانی ہو چکی تنصیبات کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، تو یہ تحقیق فضائی ٹرانسپورٹ کی پائیداری بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں