آذربائیجان اور آرمینیا نے امن معاہدے پر دستخط کر دیے، ٹرمپ نوبیل امن انعام کے لیے نامزد
مسیحی اکثریتی آرمینیا اور مسلم اکثریتی آذربائیجان نے کئی دہائیوں کے تنازع کے بعد پائیدار امن کے قیام پر اتفاق کرلیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والے تاریخی دستخطی تقریب میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے ٹرمپ کی ثالثی کو سراہتے ہوئے انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی تجویز دی۔
تقریب میں آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پاشینیان اور آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے معاہدے پر دستخط کیے، جسے وائٹ ہاؤس نے “مشترکہ اعلامیہ” قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ کے لیے لڑائی ختم کرنے، تجارت، سفر اور سفارتی تعلقات بحال کرنے اور ایک دوسرے کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا عزم کیا ہے۔
صدر علی یوف نے اسے “تاریخی دستخط” قرار دیتے ہوئے کہا کہ 3 دہائیوں سے زیادہ عرصہ جنگ میں رہنے والے 2 ممالک آج امن قائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاشینیان کے ساتھ مل کر نوبیل کمیٹی کو خط لکھنے کا اعلان کیا، جس میں ٹرمپ کے لیے امن انعام کی سفارش کی جائے گی۔ علی یوف نے امریکی فوجی تعاون پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر بھی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم پاشینیان نے کہا کہ یہ پیشرفت کئی دہائیوں کے تنازع کو ختم کرنے اور ایک نئے دور کے آغاز کی راہ ہموار کرے گی، اور یہ “پرامن ماحول” ٹرمپ کی کوششوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔
معاہدے کے تحت آرمینیا میں ایک ٹرانزٹ کوریڈور قائم کیا جائے گا، جو آذربائیجان کو اس کے نخشوان کے علاقے سے جوڑے گا۔ امریکا کو اس راہداری جسے “ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پراسپرٹی” (TRIPP) کا نام دیا گیا ہے میں ترقیاتی حقوق حاصل ہوں گے۔ ترکی نے اس پیشرفت کو سراہتے ہوئے اسے قفقاز میں پائیدار امن کے قیام کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں