’آپریشن مہادیو‘: مودی سرکار کا چہرہ پھر بے نقاب، سیاسی تماشا لگانے کی ایک اور کوشش ناکام
بھارتی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا تازہ ترین مبینہ انسداد دہشتگردی آپریشن، جسے ’آپریشن مہادیو‘ کا نام دیا گیا، کئی شکوک و شبہات اور سوالات کی زد میں آ گیا ہے۔ ماہرین اور مبصرین کے مطابق یہ فالس فلیگ کارروائی دراصل وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی تقاریر سے قبل ایک سوچا سمجھا اسٹیج تیار کرنے کی کوشش ہے۔
’آپریشن سندور‘ کی ناکامی چھپانے کے لیے، مودی سرکار نے ’آپریشن مہادیو‘ کا ڈرامہ رچایا، جو بدستور تنقید کی زد میں ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ کارروائی مودی کی لوک سبھا میں تقریر سے صرف ایک دن قبل انجام دی گئی۔
بھارتی میڈیا ادارہ وی آن نیوز کے مطابق، بھارتی فوج نے سری نگر کے قریب پہلگام حملے سے منسلک 3 مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں سے ایک کو مقامی شخص اور ’دہشتگردوں کا سرغنہ‘ قرار دیا گیا۔ بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد کیا گیا، جن میں سوویت ساختہ AK-47، امریکی کاربائن، سترہ رائفل گرینیڈز اور دیگر سامان شامل ہے۔
تاہم، جاری کی گئی تصاویر اور تفصیلات نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کے مطابق ان مبینہ دہشتگردوں کے پاس موجود اسلحہ غیر فعال نظر آ رہا ہے، یہاں تک کہ بعض رائفلز کی بیرل میں کپڑا ٹھوس نظر آتا ہے، جو کسی بھی حقیقی مقابلے کی صورت میں ممکن نہیں۔
کیا پہلگام حملے میں دہشتگرد واقعی مارے گئے؟واقعہ کی ٹائمنگ نے — یعنی لوک سبھا تقریر سے ایک دن قبل —فالس فلیگ آپریشن کا شبہ پیدا کر دیا ہے۔
کیا یہ محض سیاسی فائدے کے لیے ڈیزائن کیا گیا واقعہ تھا؟مبصرین کے مطابق، مودی سرکار اکثر سیاسی دباؤ یا انتخابی مہم کے دوران ایسے ’انسداد دہشتگردی آپریشنز‘ کا سہارا لیتی ہے تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔
کیا ان مبینہ دہشتگردوں کے پاکستان سے تعلق کا کوئی ثبوت ہے؟
حسب روایت، بھارتی میڈیا اور حکومتی ذرائع نے بغیر کسی ثبوت کے ان کا تعلق پاکستان سے جوڑ دیا، لیکن عالمی فورمز پر کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
مودی حکومت پر پہلے بھی ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ ریاستی سطح پر فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔ ہر بار ایک جیسی جعلی تصاویر، پرانے ہتھیار، اور بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزامات ایک مخصوص بیانیے کو فروغ دینے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی جانب سے ’آپریشن مہادیو‘ پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر مبینہ دہشتگرد پاکستانی تھے تو پھر بھارت عالمی سطح پر انہیں بے نقاب کیوں نہیں کرتا؟ کیوں ہر بار صرف مقامی میڈیا کو فوٹو دکھا کر نیشنلزم کے جذبات بھڑکائے جاتے ہیں؟
’آپریشن مہادیو‘ فالس فلیگ آپریشنز کے اُس سلسلے کی ایک اور کڑی معلوم ہو رہا ہے جو ہندوتوا سرکار کی ریاستی پالیسی بنتے جا رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف بھارت عالمی سطح پر خود کو دہشتگردی کا شکار ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہیں اندرون ملک سیاسی فائدے کے لیے ایسے جعلی واقعات کا سہارا لے کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں