بھارت فرار ہونےکے بعد بنگلا دیشی سابق وزیر اعظم حسینہ واجدکا پہلا بیان

ساڑھے 15 سالہ دور اقتدار کے خاتمے اور بھارت فرار ہونے کے بعد بنگلادیش کی سابق وزیراعظم اور عوامی لیگ کی سربراہ حسینہ واجد کا پہلا بیان سامنے آگیا۔
حسینہ واجد کے صاحبزادے سجیب واجد کی جانب سے والدہ کا پیغام اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیا گیا ہے۔بنگلادیشی عوام کے نام اپنے پیغام میں حسینہ واجد نے کہا کہ جولائی سے احتجاج کے نام پر ہونے والی بدامنی، آتشزدگی اور تشدد کے باعث بہت سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، میں ان سب کے لواحقین سے تعزیت کرتی ہوں اور ان کی مغفرت کی دعا کرتی ہوں۔

حسینہ واجد نے مطالبہ کیا کہ حالیہ قتل و غارت اور بدامنی میں ملوث افراد کی مناسب تحقیقات کے بعد نشاندہی کی جائے اور انہیں سزا دی جائے۔اپنے پیغام میں حسینہ واجد نے بنگلادیشی عوام سے درخواست کی کہ وہ 15 اگست کو یوم سوگ کے طور پر منائیں تاہم اس مرتبہ بنگلادیش کی عبوری حکومت نے 15 اگست کی چھٹی ختم کرنےکا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب شیخ حسینہ واجد اور ان کے دور کے اہم حکومتی عہدیداروں پر شہری کے قتل کے الزام پر مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ،شیخ حسینہ واجد اور دیگر 6 افراد کو 19 جولائی کو ڈھاکا میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ سے شہری کی ہلاکت کے مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق شیخ حسینہ اور دیگر کے خلاف مقدمہ ڈھاکا کے رہائشی اور مقتول کے قریبی شخص امیر حمزہ نے درج کروایا۔مقدمے کے متن میں لکھا گیا ہے کہ طلبا مظاہروں کے دوران پولیس نے فائرنگ کی اور ایک گولی سڑک سے گزرتے ہوئے شہری ابو سعید کو لگنے سے اس کی موت ہوئی۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق مقدمے میں حسینہ واجد کے علاوہ عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری، سابق وزیر داخلہ، سابق پولیس سربراہ، تحقیقاتی ادارے کے سابق سربراہ سمیت نامعلوم پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے