سعودی عرب میں شراب کی فروخت کے لائسنس سے متعلق غیر ملکی میڈیا کی خبریں بے بنیاد قرار

سعودی عرب نے ان غیر ملکی میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مملکت 2026 سے شراب کی فروخت کے لائسنس جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ باخبر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اطلاعات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ سعودی قوانین اور موجودہ پالیسیوں سے مطابقت بھی نہیں رکھتیں۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے سعودی حکام نے واضح کیا کہ "یہ دعوے کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے تصدیق شدہ نہیں ہیں اور نہ ہی مملکت کی پالیسیوں کی درست نمائندگی کرتے ہیں۔” انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب کا وژن 2030 ایک مربوط اور پائیدار سیاحتی ترقی پر مرکوز ہے، جو مقامی روایات اور اقدار کی پاسداری کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق، سعودی عرب بین الاقوامی سیاحوں کو اپنی ثقافتی شناخت، قدرتی حسن، اور تاریخی ورثے سے روشناس کرانے کے لیے پرعزم ہے۔ "یہ نقطہ نظر عالمی سیاحوں کو خاصی کشش فراہم کر رہا ہے، جو ایک منفرد تجربے کی تلاش میں مملکت کا رخ کر رہے ہیں۔”

غیر مسلم ممالک کے سفارتخانوں کے لیے متعارف کردہ ایک نئے فریم ورک کے تحت شراب اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی سفارتی سامان کے ذریعے درآمد پر سخت نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اب ایسی اشیاء کی درآمد کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم محدود اور ضابطہ شدہ رسائی ممکن ہے، مشروط اس بات پر کہ تمام ضوابط کی مکمل پاسداری کی جائے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2024 میں سعودی عرب نے 29.7 ملین غیر ملکی سیاحوں کا خیر مقدم کیا، جو 2023 کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اسی سال سیاحت سے حاصل شدہ مجموعی آمدنی 283.8 ارب سعودی ریال رہی، جس میں سے 168.5 ارب ریال غیر ملکی سیاحوں کی جانب سے خرچ کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ "یہ اعداد و شمار مملکت کی اقتصادی تنوع کی کوششوں اور پائیدار ترقی کے اہداف میں سیاحت کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتے ہیں۔”

سعودی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مملکت اپنی سیاحتی حکمتِ عملی کو جاری رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے، مہمان داری کی خدمات اور ثقافتی مقامات کی ترقی کے ذریعے دنیا بھر سے مزید سیاحوں کو متوجہ کرے گی، تاہم اس میں مقامی اقدار کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے گا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے