ڈی ایف پی کا کشمیری نوجوانوں کے حالیہ قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ، قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور

سرینگر: جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی) نے بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں دو کشمیری نوجوانوں کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے آج یہاں جاری اپنے بیان میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران وادی میں حراست کے دوران ہلاکتوں اور جعلی مقابلوں کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

بھارتی قابض افواج کی جانب سے کالے قوانین کے بے دریغ استعمال کو ان ہلاکتوں کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کالے قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ کے باعث وادی میں عام شہریوں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فورسز کی جانب سے دورانِ تفتیش غیر انسانی تشدد کے وحشیانہ طریقے اپنائے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں درجنوں معصوم نوجوانوں کو حراست میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

ڈی ایف پی کے ترجمان نے وادی میں تازہ گرفتاریوں کے سلسلے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قابض بھارتی افواج نے وسطی اور جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران سیکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض حکام کی جانب سے غیر قانونی حراست اور من مانی گرفتاریاں خطے میں سیاسی اختلاف رائے کو دبانے اور آزادی پسند قوتوں کو کچلنے کا ایک ہتھکنڈہ بن چکی ہیں۔

ترجمان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ وادی کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور اس دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے آگے بڑھے، کیونکہ یہی مسئلہ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و جبر کی بنیادی وجہ ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک کشمیری ٹرک ڈرائیور وسیم احمد ملاح کو بدھ کی رات بارہمولہ کے سنگرامہ چوک میں بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا، جبکہ ایک اور نوجوان مکھن دین کو بلیلور کے علاقے سے آزادی پسند کارکنوں کے ساتھ تعلقات کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اگلے ہی دن دورانِ حراست تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے