حسینہ واجد نے امریکہ کو حکومت گرانے کا ذمہ دار قرار دیدیا

بنگلادیش میں وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کے بعد بھارت فرار ہونے والی شیخ حسینہ واجد نے امریکا کو حکومت گرانے کا ذمہ دار قرار دے دیا۔بنگلادیش میں اس وقت ریاستی اداروں سے حسینہ واجد کے حامیوں کو نکالنے کا عمل جاری ہے اور گزشتہ روز طلبہ نے چیف جسٹس سمیت 6 سیاسی ججز سے استعفے لیے۔
اب حسینہ واجد نے اقتدار سے نکالے جانے کے بعد پہلی بار لب کشائی کی اور امریکا پر حکومت گرانے کا الزام عائد کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حسینہ واجد نے قریبی ساتھیوں کو پیغام میں دعویٰ کیا کہ امریکا خلیج بنگال پر تسلط قائم کرنا چاہتا ہے اور سینٹ مارٹن کے جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا تھا۔
حسینہ واجد نے کہاکہ میں نے جزیرے کا کنٹرول امریکا کے حوالے نہیں کیا تو میری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور استعفیٰ بھی اس لیے دیا کہ طلبہ اور عوام کی مزید لاشیں نہ گریں۔

حسینہ واجد نے دعویٰ کیا کہ میں اقتدار میں رہ سکتی تھی اگر میں جزیرے پر خودمختاری چھوڑ دیتی اور امریکا کو خلیج بنگال پر غلبہ حاصل کرنے دیتی۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے کئی رہنما مارے جا رہے ہیں اور کارکنوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے یہ سب سن کر مجھے دکھ ہوا میں جلد وطن واپس آؤں گی، میں ملک کے روشن مستقبل کیلئے دعاگو ہوں جس کے لئے میرے والد اور خاندان نے جانیں گنوائیں۔
’رضا کار‘ کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے حسینہ واجد نے کہا کہ میں طلبہ سے کہنا چاہتی ہوں میں نے کبھی ’رضاکار‘ نہیں کہا بلکہ میرے الفاظ کو غلط رنگ دے کر پیش کیا گیا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے