جاپان ، ناگاساکی پر ایٹم بم حملے کو79 سال مکمل ہو گئے
جاپان کے مغربی شہر ناگاساکی پر ایٹم بم حملے کو79 سال مکمل ہو گئے ۔ شنہوا کے مطابق ناگاساکی کے میئر شیرو سوزوکی نےسالانہ تقریب کے دوران جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے امن کا اعلان کیا ۔
تقریب کے دوران مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجکر 2 منٹ پر ایک لمحے کی خاموشی اختیار کی گئی، کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب 9 اگست 1945 کو امریکی بی- 29 بمبار طیارے نے پلوٹونیم کور ایٹم بم گرایا تھا، جسے فیٹ مین کا نام دیا گیا تھا، جس میں تقریباً 74ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ناگاساکی کے میئر شیرو سوزوکی نے کہا کہ ہم مذاکرات اور سفارتی کوششوں پر زور دیتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ راستہ کتناہی مشکل کیوں نہ ہو،ہتھیاروں کے پھیلائو اور طاقت کے زور کے بجائے اس کا پرامن حل کی طرف راستہ تلاش کریں۔
میئر شیرو سوزوکی نے مطالبہ کیا کہ جاپانی حکومت اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کرے اور اس کی توثیق کرے، وہ شمال مشرقی ایشیا میں کشیدگی کو کم کرنے اور تخفیف اسلحہ کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کی قیادت کرے۔ ناگاساکی پیس پارک میں ہونے والی تقریب میں تقریباً 2,300 شرکانے شرکت کی، جن میں تقریباً 100 ممالک کے نمائندے بھی شامل تھے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں