چین کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ، بھارت نے ایل اے سی پر مزید فوجی بھیج دیے
چین کی طرف سے لداخ کے علاقے سے دو نئی کاونٹیوں کی تشکیل اور دریائے برہم پترا پر ایک بڑے ڈیم کی تعمیر کے فیصلے کے بعد چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان بھارت نے 33 انڈو تبت یںبارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی چھ نئی بٹالین لائل آف ایکچیوئل کنٹرول ( ایل اے سی) پر تعینات کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فورسز نے2024میں 101کشمیری شہید،3492افراد گرفتار کیے
رپورٹ کے مطابق اوڈیشہ کے ضلع کھوردھا میں آئی ٹی بی پی کے 63 ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل راہول راسگوترا نے "فارورڈائزیشن پلان” کے بارے میں تفصیل سے بتایا جس کا مقصد برفانی محاذ پر فورس کی موجودگی کو تقویت دینا ہے۔ اروناچل پردیش میں چھ بٹالین تعینات کی گئی ہیں، جن میں سے ایک سکم سرحد پر تعینات ہے۔
راسگوترا نے فورس کو جدید بنانے کی کوششوں پر روشنی ڈالی، بشمول نگرانی کی ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنا محفوظ مواصلات کے لیے قومی فائبر نیٹ ورک کا فائدہ اٹھانا وغیرہ شامل ہیں۔
ایل اے سی میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے اس سال کل 2,500 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، پچھلے سال فارورڈ پوسٹوں اور بٹالین کی سہولیات کی تعمیر پر 1,000 کروڑ خرچ کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ چین نے بھارت کو ایک اور دھچکا دیتے ہوئے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کرلئے ہیں۔چین نے ہوتان پریفیکچر میں لداخ کے کچھ حصے شامل کر کے دو نئی کاونٹیوں کے قیام کا اعلان کیا ہے جس پر مودی حکومت سخت سیخ پا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں