شام کی تعمیرِ نو کے حامی ہیں لیکن کسی نئے اسلامی ڈھانچے کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے، یورپی ممالک
شام میں بشار الاسد کے 24 سالہ آمرانہ دورِ حکومت کا خاتمہ کرکے ملک میں عبوری حکومت قائم کرنے والے احمد الشرع المعروف ابو محمد الجولانی سے دمشق میں عالمی رہنماؤں کی ملاقات کا سلسلہ جاری ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور شام میں بدلتی صورت حال پر فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ دمشق پہنچے ہیں اور احمد الشرع سے ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں نے احمد الشرع پر ملک میں اقتدار کی پُرامن اور جامع منتقلی کے لیے انتخابات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکومت میں تمام طبقات، اقلیتوں اور بالخصوص خواتین کی نمائندگی کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کیلئے 10 جنوری کی تاریخ مقرر
جرمنی کی وزیرخارجہ اینالینا بیئربوک نے احمد الشرع کو آگاہ کیا کہ یورپ کسی بھی نئے اسلامی ڈھانچے کو معاونت فراہم نہیں کرے گا اور ایسا کرنا نہ صرف ہمارے بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل باروٹ نے کہا کہ شام کی تعمیر نو میں یورپی یونین اور ممالک اور مکمل تعاون کریں گے لیکن کسی نئے اسلامی ڈھانچے کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے۔
اے ایف پی کے مطابق حیات تحریر الشام کے سپریم کمانڈر اور شامی حکومت کے سربراہ احمد الشرع نے دونوں وزرائے خارجہ کو قلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی کروائی ہے۔
شام کے دورے پر آئے فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے دمشق میں سول سائیٹی اور اقلیتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں