250سال بعد عقاب کو امریکا کا قومی پرندہ قرار دے دیا گیا
کرسمس کی شام امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک قانون پر دستخط کرتے ہوئے سفید سر اور زرد چونچ والے شکاری پرندے، بالڈ ایگل کو باضابطہ طور پر امریکا کا قومی پرندہ قرار دے دیا۔
یہ پرندہ 1782 سے امریکی گریٹ سیل پر موجود ہے اور طویل عرصے سے قومی علامت کے طور پر پہچانا جاتا رہا ہے، لیکن اسے سرکاری طور پر قومی پرندے کا درجہ نہیں دیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے کانگریس کی جانب سے بل کی منظوری کے بعد صدر بائیڈن کے دستخطوں سے بالڈ ایگل کو یہ اعزاز باضابطہ طور پر حاصل ہوا۔
نیشنل ایگل سینٹر کے نیشنل برڈ انیشیٹو کے جیک ڈیوس نے کہا کہ تقریباً 250 سال تک ہم نے بالڈ ایگل کو قومی پرندہ کہا، جب کہ وہ نہیں تھا۔ لیکن اب یہ اعزاز سرکاری ہو چکا ہے، اور کوئی پرندہ اس اعزاز کے زیادہ لائق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسپین کی کوسٹ گارڈز نے کینری جزائر کے قریب پھنسے درجنوں تارکین وطن کو بچالیا
امریکا کے بانی رہنما بینجمن فرینکلن نے اس پرندے کو خراب اخلاقی کردار کا حامل قرار دیتے ہوئے اس کے قومی حیثیت پر اعتراض کیا تھا۔ لیکن کانگریس کے دیگر اراکین نے ان کے خیالات کی حمایت نہیں کی۔
بالڈ ایگل کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف شمالی امریکہ میں پایا جاتا ہے۔ بالڈ ایگل کو قومی پرندہ قرار دینے کی تحریک منی سوٹا کے قانون سازوں نے پیش کیا ، منی سوٹا امریکہ کی سب سے بڑی بالڈ ایگل آبادیوں میں سے ایک کا گھر ہے ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں