یاسین ملک کو دہشت گردی کے فنڈنگ کیس میں سزائے موت

یاسین ملک، جو جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے رہنما ہیں، کو بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی عدالت نے 2022 میں بھارتی ریاست کے خلاف سازش اور جنگ چھیڑنے کے الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔ یہ مقدمہ ایک 30 سال پرانی کارروائی کا حصہ ہے جسے عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کے گروپوں نے سیاسی انتقام قرار دیا ہے

عالمی سطح پر، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اداروں نے یاسین ملک کی سزائے موت کے خلاف آواز اُٹھائی ہے اور بھارت کی عدلیہ پر سوالات اُٹھائے ہیں۔ اقوام متحدہ اور مختلف بین الاقوامی اداروں نے بھارتی کارروائیوں کو متنازعہ قرار دیا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی عدالتی فیصلے کو ’’من گھڑت الزامات‘‘ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، اور کہا کہ یہ ’’پاکستان کے خلاف مفروضاتی الزامات‘‘ ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ طارق احمد نے اس معاملے کی نگرانی کی تصدیق کی، جبکہ برطانوی پارلیمنٹیرین لارڈ قربان حسین نے کہا کہ یاسین ملک کی زندگی کو خطرہ ہے، اور کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ بھارتی حکومت انہیں راستے سے ہٹانا چاہتی ہے۔

یاسین ملک نے بھارتی عدالتوں اور حکام سے سوالات کیے ہیں کہ اگر وہ دہشت گرد تھے تو بھارتی حکومت نے ان سے ملاقات کیوں کی؟ انہیں پاسپورٹ کیوں دیا گیا؟ اور انہیں عالمی سطح پر لیکچر دینے کا موقع کیوں دیا گیا؟

یہ بھی پڑھیں:مودی سرکار کا متنازعہ اقدام ، ہزاروں کشمیری خاندانوں کے راشن کارڈ منسوخ کرکے انہیں مشکلات سے دوچارکردیا

یاسین ملک کی سزائے موت کے حوالے سے خدشات اس لیے بھی بڑھ گئے ہیں کیونکہ بھارتی حکومت نے 1984 میں جے کے ایل ایف کے بانی مقبول بٹ کو عدالتی طور پر پھانسی دی تھی، جس پر کشمیری عوام نے سوالات اُٹھائے ہیں کہ آیا یاسین ملک بھی اسی طرح کے عدالتی قتل کا شکار ہوں گے۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے گروپوں اور آزاد محققین نے بھارتی عدلیہ کی جانب سے یاسین ملک کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اپنانے کا الزام عائد کیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں جان بوجھ کر خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔

عالمی سطح پر یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ہر شخص کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے۔ یاسین ملک نے کہا ہے کہ انہیں عدالت میں پیش ہونے سے روکا گیا اور منصفانہ ٹرائل نہیں دیا گیا، جو کہ ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

یاسین ملک کی سزائے موت کا معاملہ صرف ایک شخص کی تقدیر کا نہیں بلکہ پورے کشمیر کے سیاسی، قانونی اور انسانی حقوق کے سوالات کا ایک سنگین پہلو ہے۔ بھارت کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر عالمی برادری کا ردعمل اور انسانی حقوق کے اداروں کی مداخلت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ کشمیری عوام کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے حوالے سے بھارتی حکومت کی پالیسی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے