یوکرین جنگ کا خاتمہ :صدر پیوٹن نومنتخب امریکی صدرکیساتھ مذاکرات کے لئے تیار

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے  کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات اور سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے سالانہ پریس کانفرنس میں داخلی اور عالمی معاملات پر سوالات کے جوابات دئیے ، یہ  پریس بریفنگ چار  گھنٹے 27 منٹ سے زائد جاری رہی  جس میں صدر پیوٹن نے  ہر موضوع پر کھل کر بات کی ۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے اعلان کیا کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات اور سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔  مذاکرات شروع کرنے کے لیے ہم نے کوئی شرائط  نہیں رکھیں ۔ مغربی ممالک کے اوریشنک میزائل پر شکوک و شبہات کے جواب میں پیوٹن نے امریکا کو مقابلے کی پیشکش کر دی ۔

صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ ہم اوریشنک میزائل کے اس طرح کے تجربے کے لیے تیار ہیں ، دیکھتے ہیں امریکی اور برطانوی ائرڈیفنس سسٹم اس کو پکڑ پاتے ہیں یا نہیں ۔ ہم نے امریکی اور برطانوی میزائلوں کے حملے کے جواب میں اوریشنک میزائل میزائل پہلی بار 21 نومبر کو یوکرینی شہر ڈنیپرو کے خلاف استعمال کیا تھا ۔

 نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ امن مذاکرات کے امکان کے سوال پر صدر پیوٹن نے آمادگی کا اظہار کیا ۔ انہوں  نے کہا کہ ہم ہمیشہ سے مذاکرات اور سمجھوتوں کے لیے تیار رہے ہیں۔ صدر پیوٹن نے روس کی کمزور پوزیشن کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 2022 میں یوکرین میں فوج بھیجنے کے بعد روس نے اپنی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اقوام متحدہ کے سربراہ کا اسرائیل سے شام پر حملے روکنے کا مطالبہ

شام کے حوالے سے صدر  پیوٹن نے اس تاثر کو رد کیا کہ روس کو شکست ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دمشق کے نئے حکمران اور بشار الاسد سے ملاقات کریں گے تاکہ شام میں روسی فوجی اڈوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکی صحافی آسٹن ٹائس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے