یورپی یونین مقبوضہ کشمیر میں بلاتاخیر انسانی حقوق کی پامالیاں روکوائے، علی رضا سید کا یورپی حکام کو خط

برسلز:کشمیر کونسل یورپ (کے سی ای یو) کے چیئرمین علی رضا سید نے یورپی یونین کے اعلیٰ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔انہوں نے اس تناظر میں یورپی کونسل کے سربراہ انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وی ڈی لیین اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی سربراہ روبرٹا میٹسولا ، یورپی یونین کے اعلیٰ سفارتی نمائندہ کاجا کالس، خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ ڈیوس میک ایلسٹر اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کے سربراہ مونیر ستوری کو الگ الگ خط لکھا ہے۔
کشمیرکونسل ای یو کے خط میں کونسل کے چیئرمین علی رضا سید نے یورپی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے اور بھارتی جیلوں میں قید تمام کشمیریوں کو غیر مشروط طور پر رہا کرے۔

یہ بھی پڑھیں : آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق کا نیلم جیپ حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار
خط میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ دنیا کے تمام لوگوں اور تمام قوموں کے بنیادی حقوق کے حصول کا ایک مشترکہ معیار ہے لیکن بھارت، "دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت” کے دعوے کے باوجود جموں و کشمیر کے مقبوضہ علاقے میں ان انسانی حقوق کو قبول نہیں کرتا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلوں، سزائے موت پانے والے قیدیوں کے اجساد کو ان کے لواحقین کے حوالے نہ کرنے اور بے گناہ لوگوں کو بغیر جرم و خطا کے حراست میں رکھنے، سیاست دان، انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو جعلی الزامات کے تحت گرفتار کرنے میں ملوث ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو جبراً خاموش کردیا گیا ہے اور ان میں سے بہت سے صحافی سخت قوانین کے تحت جیلوں میں ہیں۔ آصف سلطان، سجاد گل، فہد شاہ اور معراج کشمیری صحافیوں کی مثالیں ہیں جو وحشیانہ و جابرانہ کارروائیوں کے تحت بھارتی ناانصافی کا نشانہ بنے۔
بھارت کی ایک عدالت نے سینئر کشمیری رہنما یاسین ملک کو دہشت گردی میں مالی معاونت کے جھوٹے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی ہے اور وہ بے گناہ جیل میں ہیں۔ ایک کشمیری اسکالر ڈاکٹر قاسم فخرو طویل مدت سے قید ہیں جنہیں اکثر کشمیر کا نیلسن منڈیلا کہا جاتا ہے۔ 31 سال قید کے باوجود انہیں رہائی نہیں ملی۔ انسانی حقوق کے ممتاز رہنما خرم پرویز، جنہوں نے 2023 میں مارٹن اینالز ایوارڈ حاصل کیا جو انسانی حقوق کا دنیا کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ہے، کو دہشت گردی اور اس سے متعلقہ جرائم کے غیر مصدقہ الزامات میں تین سال سے قید میں رکھا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے ایک اور مدافع محمد احسن انتو بھی دو سال سے زیادہ عرصہ قید رہے۔
چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے عزم کا اظہار کیا کہ کشمیر کونسل یورپ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر یورپ میں اس وقت تک آواز اٹھاتی رہے گی، جب تک انسانی حقوق کے کشمیری کارکنوں، صحافیوں اور سیاسی قیدیوں کو آزادی نہیں مل جاتی اور جب تک کشمیری عوام کو انکے بنیادی حقوق بشمول حق خودرادیت نہیں مل جاتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں ایک محفوظ اور پرامن ماحول تب ہی قائم ہو سکتا ہے، جب تک کشمیری عوام جو اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، کو مساوی حقوق نہیں مل جاتے۔ علی رضا سید نے یورپی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو کشمیریوں کے انسانی حقوق کو فراموش نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان حقوق کے حصول کے لیے کشمیریوں کی مدد کرنی چاہیے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے