کسانوں کا دہلی چلو مارچ، مودی حکومت کے خلاف زبردست مزاحمت کا پھر سے آغاز

ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کی اپنے حقوق کے لیے جاری جدوجہد میں دوبارہ تیزی آگئی ہےتاہم نام نہاد جمہوریت کی علمبردار مودی سرکار اپنے ہی کسان طبقے کو کچلنے میں مصروف ہے ۔
ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کی اپنے حقوق کے لیے جاری جدوجہد کی تحریک دوبارہ متحرک ہو گئی ہے
کسان تنظیموں اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کی دہلی چلو تحریک 8دسمبر سے دوبارہ شروع ہوچکی ہے ۔ مارچ کسان مزدور مورچہ اور کسان یکجہتی مورچہ کے زیر اہتمام ہو رہاہے۔

یہ بھی پڑھیں : مودی سرکار کا ’’میک ان انڈیا پراجیکٹ‘‘ بری طرح ناکام
اس حوالے سے پنجاب اور ہریانہ کی سرحد پر شمبھو کے مقام کو خاردار تاروں اور رکاوٹوں سے مکمل سیل کرکے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے ۔
کسان مارچ کو سبوتاژ کرنے کیلئے نیم فوجی دستےتعینات ،ڈرون اور واٹر کینن کا بھی انتظام کیا گیا ہے ۔
رپورٹس کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے جھڑپوں میں اب تک 8 کسان شدید زخمی جبکہ آنسو گیس کے استعمال سے کئی کسانوں کی حالت غیر ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ کسانوں کے مارچ کے باعث ریاست ہریانہ کے سرحدی ضلع انبالہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے ۔
’’دہلی چلو مارچ‘‘ کسانوں کے اتحاد اور مودی سرکار کی زرعی پالیسی میں کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کی علامت بنی ہوئی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے