اودھمپور : کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دو کشمیری خواتین گرفتار
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں بھارتی پولیس نے کشمیریوں کے خلاف پکڑ دھکڑ کی کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے ضلع ادھم پور میں دو کشمیری خواتین کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بسنت گڑھ کی رہائشی دونوں خواتین پر جدوجہد آزادی کشمیر کی حمایت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کالے قانون پی ایس اے کے تحت قابض حکام کو کسی بھی شہری کو مقدمہ چلائے بغیر دو سال تک قید رکھنے کا اختیار حاصل ہے ۔
مقبوضہ علاقے میں اس کالے قانون کو سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور آزادی پسند کشمیریوں کے بعد اب خواتین کے خلاف بھی استعمال کیاجارہا ہے۔دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی 2018 میں بھارت مخالف سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار ہیں۔
آسیہ اندرابی کی ساتھی زبیدہ اور فہمیدہ 2018 میں بھارت مخالف کارروائیوں کے الزامات پر گرفتار ہوئیں۔سابق حریت رہنما زمردہ حبیب کو مبینہ فنڈنگ کے الزامات پر کئی سال جیل میں رکھا گیا۔2019 کے بعد سینکڑوں کشمیری خواتین مظاہروں میں حصہ لینے پر حراست میں لی گئیں۔2022 میں بھی ضلع بڈگام میں مجاہدین کے لیے رابطہ کاری کے الزام میں تین خواتین گرفتار کی گئیں۔
اب تازہ ترین واقعہ میں گرفتار کی گئی بسنت گڑھ کی رہائشی خواتین کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے انکی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس کی طرف سے ان پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قراردیاہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں