شام میں خان شیخون اور ادلب کا کنٹرول مسلح اپوزیشن گروپوں کے ہاتھ میں چلا گیا

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف سرگرم مسلح گروپوں نے جنوبی ادلب کے اہم علاقے خان شیخون کا کنٹرول حاصل کر لیا ۔ خان شیخون پر قبضے کے ساتھ اپوزیشن گروپس ادلب صوبے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ۔
شمالی شام میں 27 نومبر کو شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد اپوزیشن گروپوں نے مغربی حلب کے دیہی علاقوں سے شہر کے مرکز تک تیزی سے پیش قدمی کی۔ چند دنوں کے اندر، انہوں نے نہ صرف حلب کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا بلکہ ہفتے کی شام خان شیخون کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں:حوثیوں کا اسرائیل پر ہائپرسونک میزائل حملے کا دعویٰ کر دیا
خان شیخون وہی شہر ہے جہاں 2017 میں بشار الاسد کی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا الزام لگا جس کے بعد امریکا نے جوابی کارروائی میں شامی فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا۔
اپوزیشن گروپوں نے ادلب کے مکمل کنٹرول کے بعد حما کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے کئی قصبوں اور دیہات پر قبضہ کر لیا، روس کی حمایت یافتہ اسد حکومت نے 2019 میں خان شیخون پر قبضہ کیا تھا، اپوزیشن گروپ اس وقت حما شہر کے مرکز سے صرف 8 کلومیٹر دور ہیں جہاں حکومتی افواج سے شدید جھڑپیں جاری ہیں ۔
ادھر، شمالی شام میں تل رفعت کے علاقے میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں شامی قومی فوج نے دہشت گرد تنظیم کے خلاف آپریشن "ڈان آف فریڈم” شروع کر رکھا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے