حلب میں باغیوں کا بڑا حملہ، درجنوں شامی فوجی مارے گئے

شامی فوج نے اعلان کیا ہے کہ باغیوں نے شمال مغربی شہر حلب میں ایک بڑا حملہ کر کے درجنوں فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ ہفتے کے روز کیے گئے اس اچانک حملے کو صدر بشار الاسد کے لیے کئی سالوں میں سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلامی تنظیم حیات تحریر الشام کی قیادت میں ہونے والے اس حملے نے شامی خانہ جنگی کو ایک بار پھر بھڑکا دیا ہے ۔ شامی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی کنٹرول بحال کرنے کے لیے جوابی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نائیجیریا میں کشتی ڈوبنے سے27 افراد ہلاک،100 سے زائد لاپتا
فوجی کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ باغی حلب کے بڑے حصوں میں داخل ہو گئے ہیں ، جو گزشتہ آٹھ برسوں سے حکومت کے مکمل کنٹرول میں تھا ۔ شامی حکومت نے روس اور ایران کی مدد سے 2016 میں حلب سے باغیوں کو نکال دیا تھا۔
شامی فوج کے مطابق باغیوں نے مختلف سمتوں سے بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔ فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بمباری کے ذریعے باغیوں کو مستقل ٹھکانے قائم کرنے سے روک دیا گیا ہے ۔
باغیوں کے ذرائع کے مطابق، انہوں نے صوبہ ادلب کے شہر معرت النعمان پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جس سے یہ پورا صوبہ ان کے کنٹرول میں آ گیا ہے ۔
حلب کے مرکزی علاقے میں فضائی حملے کے نتیجے میں متعدد شہری جاں بحق ہو گئے ۔ عینی شاہدین کے مطابق جنگی طیاروں نے علاقے کو نشانہ بنایا ۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے