سبھال مسجد کاسروے ، مودی کے جابرانہ ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں

یہ واقعہ اور اس سے جڑے ردعمل بھارت میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور مسلمانوں کے خلاف حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے ایک سنگین چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بھارت میں حالیہ برسوں میں ہندو انتہاپسند نظریات کی بڑھتی ہوئی پذیرائی اور مسلمانوں کے خلاف حکومتی رویہ نے سوشل اور سیاسی سطح پر کئی مسائل کو جنم دیا ہے۔

1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد کو مسمار کرنے کا واقعہ بھارت کی تاریخ میں ایک گہرا فرقہ وارانہ زخم ہے۔ ہندو بلوائیوں کی طرف سے مسجد کو مسمار کرنے کی کوشش نے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور ہندو-مسلم تعلقات میں دوریوں کو بڑھا دیا تھا۔ موجودہ تنازعات، جیسے سبھال کا واقعہ، اس ماضی کی گونج ہیں اور فرقہ وارانہ تشدد کے نئے دور کا آغاز کرتے ہیں۔بی جے پی کی "سازش” کا الزام: اپوزیشن جماعتوں اور رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی ریاستی حکومت نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے لیے متنازعہ سروے کا انعقاد کیا۔ اکھلیش یادو اور کانگریس پارٹی نے اس طرح کے اقدامات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جو واضح طور پر فرقہ وارانہ سیاست اور بی جے پی کی طرف سے اقلیتی طبقوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

سبھال کا واقعہ اور اس سے جڑی ریاستی کارروائیاں ہندوتوا نظریے کی جڑ پکڑنے اور اسے فروغ دینے کی بی جے پی کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس نظریے کے تحت مسلمانوں کو قومی دھارے سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور اس کا مقصد بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ایک الگ سماجی و سیاسی فریم ورک قائم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی ارب پتی اڈانی کی 250 ملین ڈالر کی کرپشن ، آر ایس ایس کے ساتھ مذموم تعلق کاانکشاف

سی اے اے اور آرٹیکل 370 جیسے اقدامات نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کو مزید بڑھایا ہے۔ سی اے اے غیر مسلم پناہ گزینوں کو شہریت دینے کی بات کرتا ہے، مگر مسلمانوں کو خاص طور پر نظرانداز کرتا ہے۔ اسی طرح، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ مسلمانوں کی اکثریتی ریاست میں علیحدگی پسندی کے جذبات کو مزید بڑھا رہا ہے اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھ رہی ہیں۔

بی جے پی اور اس کے انتہا پسند حامی "لو جہاد” جیسے قوانین کے ذریعے بین المذاہب شادیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جو غیر متناسب طور پر مسلمان مردوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس قانون کے ذریعے مسلمانوں کو ہندو خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے خلاف نفرت اور تحفظ کے جھوٹے بیانیے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

مودی حکومت کے تحت مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جیسے گائے کے ذبح یا بیف کے استعمال کے الزامات پر مسلمانوں کی بے جا پٹائی۔ اس کے علاوہ، حکومت کی خاموش حمایت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کی پالیسی مسلمانوں کے خلاف امتیاز کو بڑھا رہی ہے۔

بی جے پی کی حکومت مسلمانوں کی تاریخ اور ثقافت کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور تعلیمی نصاب میں ہندو مرکوز ماضی کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی، حکومت کے زیر اثر میڈیا اور فلموں میں مسلمانوں کے خلاف منفی بیانات کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے مسلمانوں کے خلاف امتیاز اور نفرت کو مزید جواز مل رہا ہے۔

بی جے پی حکومت کی پالیسیوں، جیسے سی اے اے، آرٹیکل 370 کا خاتمہ، "لو جہاد” کے قوانین، اور مسلمانوں کے خلاف تشدد اور نفرت کو بڑھاوا دینے والے اقدامات، بھارت میں مسلمانوں کو سیاسی اور سماجی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے اس حکومتی رویے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ بھارت میں اقلیتی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیں۔
مودی کی حکومت کے دور میں بھارت میں فرقہ وارانہ سیاست کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ملک کی داخلی سیاست، عالمی ساکھ اور اقلیتی طبقات کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف ریاستی رویے اور عوامی بیانیے نے بھارت کو ایک متنازعہ اور بدنام مقام بنا دیا ہے، جو عالمی سطح پر سرمایہ کاروں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے