بھارتی ارب پتی اڈانی کی 250 ملین ڈالر کی کرپشن ، آر ایس ایس کے ساتھ مذموم تعلق کاانکشاف
امریکہ کی طرف سے گجرات کے کاروباری ارب پتی گوتم اڈانی پر لگائے گئے الزامات نے بھارتی حکومت، خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی، کی کرپشن اور کرونی کیپٹلزم کی طرفداری کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا ہے۔ ان الزامات میں اڈانی کے خلاف رشوت دینے، دھوکہ دہی کرنے اور سیکیورٹیز فراڈ جیسے سنگین الزامات شامل ہیں، جس سے بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اڈانی پر سولر معاہدوں کے لیے 250 ملین ڈالر کی رشوت دینے کا الزام ہے، جو مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کرپٹ سیاست کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بھارت میں کاروباری لالچ اور کرپشن کا گہرا تعلق ہے۔
اڈانی اور مودی کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کی وجہ سے، بھارت کے کرونی کیپٹلزم کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کیا گیا ہے۔ مودی کی حکومت نے اپنے قریبی کاروباری مفادات کو بڑھاوا دینے کے لیے قوانین میں لچک دکھائی، جس سے بھارت میں کاروبار کرنا غیر شفاف اور غیر منصفانہ ہو گیا ہے۔
سولر معاہدوں کے لیے رشوت کے الزامات نے مودی کے "گرین انرجی” منصوبے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس اسکینڈل میں عوامی مفاد کے بجائے نجی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس سے بھارت میں کرپشن کے مکمل منظر نامے کا پتہ چلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تیسرا ون ڈے،پاکستان نے زمبابوے کو 99 رنز سے شکست دیکر سیریز2-1 سے اپنے نام کرلی
جب امریکہ کی وزارت انصاف نے اڈانی کے خلاف مجرمانہ الزامات کا آغاز کیا، تو اس سے نہ صرف اڈانی کی ذاتی ساکھ کو نقصان پہنچا بلکہ بھارت کی عالمی سطح پر سرمایہ کاری کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ اڈانی کے الزامات اور مودی کی خاموشی نے بھارت کی سیاسی و کاروباری صورتحال پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اڈانی کے اثر و رسوخ کا بڑھنا، خاص طور پر افریقہ میں توانائی اور ہوائی اڈے کے معاہدوں میں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ مودی نے اپنی غیر ملکی پالیسی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے قریبی کاروباری گروپ کو فائدہ پہنچایا، جس سے بھارت کی عالمی ساکھ مزید متاثر ہوئی۔
مودی نے اڈانی کے خلاف رشوت کے الزامات کو تسلیم نہ کرکے ایک کرپٹ حکومت کی سرپرستی کی ہے۔ یہ بھارت کے اداروں کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، جہاں قوانین صرف مخصوص افراد کے مفاد میں تبدیل کیے جاتے ہیں، جس سے عوامی اعتماد اور عالمی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔
امریکہ میں اڈانی پر رشوت اور دھوکہ دہی کے الزامات کی حقیقت نے بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ مودی کی حکومت کی جانب سے اڈانی کے خلاف الزامات کو نظرانداز کرنے سے بھارت میں کرپشن کے نظام کا پردہ فاش ہوا ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ اس گٹھ جوڑ نے نہ صرف بھارت کی سیاسی و اقتصادی صورتحال کو کمزور کیا بلکہ عالمی سطح پر بھارت کے کاروباری ماحول کی شفافیت اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں