لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا آغاز
لبنان اور اسرائیل کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت لبنانی فوجی جنوبی علاقوں میں تعینات ہوں گے جبکہ اسرائیل بتدریج انخلا کرے گا۔ فرانس جنگ بندی معاہدے پر عمل در آمد یقینی بنانے میں کردار ادا کرے گا۔ معاہدے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل تک اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری رہے۔
مسلسل 70 روز تک جاری بمباری کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ہوگیا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے 60 روزہ جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا۔ جنگ بندی اعلان کے باوجود اسرائیلی ملٹری نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو اپنے گھروں کو واپس لوٹنے سے منع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:آکسفورڈ یونیورسٹی کو نیا چانسلر مل گیا
معاہدے کے تحت اسرائیل آئندہ 60 روز میں جنوبی لبنان سے اپنے فوجیوں کو بتدریج نکالے گا۔ اس دوران لبنانی فوجی جنوبی علاقوں میں تعینات ہوں گے۔ ابتدائی دو ماہ میں حزب اللہ جنوبی لبنان سے اپنی موجودگی ختم کرے گی۔ اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کو بھی جنوبی علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی معاہدے کو خوش آئندہ قرار دیا۔ ایران نے بھی جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ فرانس جنگ بندی معاہدے پر عمل در آمد یقینی بنانے میں کردار ادا کرے گا۔ جبکہ امریکا کی سربراہی میں عالمی پینل صورتِ حال کا جائزہ لے گا۔

جنگ بندی معاہدے کے باقاعدہ اعلان سے چند گھنٹے قبل تک اسرائیل کے بیروت اور دیگر شہروں پر حملے جاری رہے۔ اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں اب 3 ہزار 823 لبنانی شہید اور تقریبا 16 ہزار زخمی ہوئے۔ حزب اللہ سے جھڑپوں میں 73 اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ۔ اسرائیلی بمباری میں 99 ہزار سے زائد عمارتیں تباہ اور تقریبا 9 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں ۔ لبنان میں تباہ شدہ عمارتوں کی مرمت کا تخمینہ ساڑھے آٹھ ارب ڈالر سے زائد ہے

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں