ایلون مسک کی آسٹریلیا کے بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کے مجوزہ قانون پر تنقید
امریکی ارب پتی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” کے مالک ایلون مسک نے آسٹریلیا کے اس مجوزہ قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی اور قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنیوں پر 4 کروڑ 95 لاکھ آسٹریلین ڈالر (3 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر) تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
آسٹریلیا کی حکومت نے جمعرات کو بل پارلیمنٹ میں پیش کیا، جس کا مقصد سوشل میڈیا کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے کے لیے ایک سخت ترین نظام کا نفاذ ہے۔ اس نظام میں ممکنہ طور پر بائیومیٹرکس یا سرکاری شناختی دستاویزات کے ذریعے عمر کی تصدیق کی جائے گی ۔
یہ دنیا کے کسی بھی ملک کی جانب سے نافذ کیے جانے والے سخت ترین اقدامات میں شامل ہوگا۔ایلون مسک نے اس قانون پر وزیر اعظم انتھونی البانیس کے ایکس پر پوسٹ کے جواب میں کہا کہ یہ تمام آسٹریلوی شہریوں کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی کو کنٹرول کرنے کا ایک خفیہ طریقہ معلوم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :روس کی عدالت نے ایپل پر 3.6 ملین روبل کا جرمانہ عائد کر دیا
دنیا کے کئی ممالک پہلے ہی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے قانون سازی کا وعدہ کر چکے ہیں، لیکن آسٹریلیا کی مجوزہ پالیسی ان میں سب سے سخت ہو سکتی ہے۔ اس قانون میں والدین کی اجازت یا پہلے سے موجود اکاؤنٹس کے لیے کوئی استثنیٰ شامل نہیں ہوگا۔فرانس نے گزشتہ سال 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز پیش کی تھی، لیکن اس میں والدین کی اجازت سے بچنے کی گنجائش موجود تھی۔
اسی طرح، امریکا کئی دہائیوں سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو 13 سال سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے والدین کی اجازت لینے کا پابند کرتا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں