لندن میں کسانوں کا احتجاج، بچے بھی ٹریکٹرز لے آئے
برطانوی کسانوں نے لندن کی سڑکوں پر احتجاج کیا، یہ مظاہرہ حکومت کی جانب سے انکم ٹیکس میں تبدیلیوں کے خلاف کیا گیا ۔ انکم ٹیکس تبدیلیوں کو ٹریکٹر ٹیکس کا نام دیا جا رہا ہے۔ نئے فیصلے کے تحت خاندانی زرعی زمین کی وراثت میں منتقلی پر حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کی جا رہی ہے، نئے قانون کا اطلاق 2026 سے ہوگا۔یہ تبدیلی چانسلر ریچل ریوز کی اکتوبر میں اعلان کردہ مالیاتی منصوبوں کا حصہ ہے۔
ان منصوبوں کے تحت، ایک ملین پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کی زمین رکھنے والے کسان اپنی زرعی زمین کو ٹیکس کے بغیر اپنی اولاد کو منتقل نہیں کر سکیں گے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کسانوں کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ کم منافع والے کسانون کو ٹیکس کی ادائیگی کیلیے زمین بیچنی بھی پڑ سکتی ہے ۔ماحولیات ، خوراک اور دیہی امور کے وزیر اسٹیو ریڈ نے کہا کہ اس فیصلے سے زیادہ تر کسان متاثر نہیں ہوں گے۔ تاہم کسانوں کا موقف ہے کہ حکومت کی اس پالیسی سے دیہی برادریوں میں پہلے سے موجود مالی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔چانسلر ریوز نے کسانوں کے جذبات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس اصلاحات صرف زیادہ مالیت والی جائیدادوں اور زرعی زمین پر لاگو ہوں گی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اسکولوں اور صحت کے شعبے میں استعمال کی جائے گی ۔ ماضی میں "ٹاپ گئیر” کے میزبان جیریمی کلارکسن نے بھی کسانوں کے احتجاج میں حصہ لیا ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں