جرمن چانسلر کی روسی صدر سے بے نتیجہ گفتگو

جرمن چانسلر اولاف شولز نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت کے بعد کہا ہے کہ یوکرین جنگ پر پیوٹن کے مؤقف میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے اس فیصلے کا دفاع کیا کہ کریملن سے فون پر رابطہ کرنا ضروری تھا، چاہے اس پر تنقید بھی کیوں نہ ہو۔شولز نے برازیل میں جی 20 سمٹ کے لیے روانگی سے قبل برلن ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیوٹن سے بات کرنا اس لیے اہم تھا تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ مغربی ممالک یوکرین کی حمایت ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

چانسلر شولز نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دوبارہ اقتدار میں آنے کے تناظر میں کہا کہ اگر واشنگٹن پیوٹن سے باقاعدہ رابطے میں ہو لیکن کوئی یورپی رہنما ایسا نہ کرے تو یہ یورپ کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا، "گفتگو تفصیلی تھی، لیکن اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ روسی صدر کے جنگ سے متعلق خیالات زیادہ تبدیل نہیں ہوئے ہیں، جو کہ اچھی خبر نہیں ہے

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے