لندن میں ہزاروں افراد کا اسرائیل کے خلاف مظاہرہ

لندن میں ہزاروں افراد نے اسرائیل کے خلاف غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج کیا ، مظاہرین نے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی پر فوری پابندی کا مطالبہ کیا۔ڈاؤننگ اسٹریٹ نکلنے والے مارچ میں شریک مظاہرین وائٹ ہال سے امریکی سفارتخانے گئے ۔ لندن کی فضا فری فلسطین کے نعروں سے گونجتی رہی ۔مظاہرین نے فلسطین اور لبنان کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور مختلف پلے کارڈز پر برطانوی حکومت کی اسرائیل کے حملوں میں شراکت داری کی مذمت کی گئی۔

برطانیہ میں فلسطین کی حمایت میں قائم فلسطین یکجہتی مہم نے بالفور ڈکلیریشن کی سالگرہ کے موقع پر کہا کہ ہم وائٹ ہال سے اسرائیل کے سب سے بڑے حمایتی امریکا کے سفارتخانے تک مارچ کر رہے ہیں ، تاکہ برطانیہ کی اسرائیل کے قتل عام میں تاریخی اور موجودہ شراکت کو ختم کرنے کا مطالبہ کریں۔غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کے ساتھ ستمبر کے آخر سے اسرائیل نے لبنان پر اپنے فضائی حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

لبنانی صحت حکام کے مطابق، اکتوبر کے آغاز سے اب تک اسرائیل کے حملوں میں 2,900 سے زائد افراد جاں بحق اور 13,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔اسرائیل نے یکم اکتوبر کو جنوبی لبنان میں بھی کارروائیاں شروع کی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے فوری جنگ بندی کے مطالبے کے باوجود، اسرائیل نے گزشتہ سال فلسطینی مزاحمتی گروہ کے حملے کے بعد غزہ پر تباہ کن حملے جاری رکھے ہیں۔

مقامی صحت حکام کے مطابق اب تک 43,300 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جاں بحق اور 102,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔اسرائیل کو اپنے اقدامات کے باعث بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے کیس کا سامنا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے