برطانوی بادشاہ چارلس کا آسٹریلیا کا دورہ

برطانیہ کے بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا آسٹریلیا کے دورے پر جہاں سے وہ ساموا جائیں گے اور دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں شرکت کریں گے بادشاہ چارلس سڈنی کے اندرونی علاقے ریڈفرن پہنچے، جو آسٹریلیا کی شہری آبادی کی ابوریجنل شہری حقوق کی تحریک کا مرکز رہا ہے۔

چارلس نے نیشنل سینٹر فار انڈیجنس ایکسیلنس میں انڈیجنس عمائدین سے ملاقات کی۔بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا نے مغربی سڈنی میں ایک کمیونٹی باربی کیو ایونٹ میں حصہ لیا، جہاں انہوں نے کھانا تیار کیا۔ یہ تقریب آسٹریلیا کی ثقافتی تنوع اور علاقائی پیداوار کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ باربی کیو میں شامل ہونے کے لیے خصوصی دعوت نامے جاری کیے گئے تھے، جن میں کھلاڑی، فنکار اور رضاکار شامل تھے۔

اس سے قبل، چارلس نے گلیب کے علاقے میں کنگز ٹرسٹ آسٹریلیا چیریٹی کے تعاون سے بنائے گئے سوشل ہاؤسنگ پروجیکٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم انتھونی البانیز اور دیگر لوگوں کے ساتھ ملاقات کی۔سڈنی اوپرا ہاؤس پر ہزاروں آسٹریلویوں نے شاہی جوڑے کا خیر مقدم کیا، جہاں بچوں کی جانب سے ایک رقص کی پرفارمنس بھی پیش کی گئی۔ بعد ازاں، بادشاہ اور ملکہ نے سڈنی ہاربر میں بحریہ کے بیڑے کا معائنہ بھی کیا۔ایک روز قبل چارلس کو آسٹریلیا کے پارلیمنٹ ہاؤس میں اس وقت مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا

جب ایک سینیٹر لیدیا تھورپ نے پارلیمنٹ میں احتجاج کرتے ہوئے بادشاہ پر آسٹریلیا کے لوگوں کے خلاف نسل کشی کا الزام لگایا۔ تھورپ نے کہا کہ آپ ہمارے بادشاہ نہیں ہیں، آپ نے ہماری قوم کے خلاف نسل کشی کی ہے۔ آزاد سینیٹر نے بادشاہ کی خودمختاری کو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا اور مقامی لوگوں کے لیے معاہدے کا مطالبہ کیا ۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا

جب چارلس نے آسٹریلیا کے تاریخی سفر بات کی، جو مصالحت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ سال آسٹریلیا کے آئین میں مقامی لوگوں کو تسلیم کرنے کے لیے قومی ریفرنڈم کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے