ترکیے میں امن کیلیےکردجنگجو تنظیم PKK کو حکومت کی آفر
ترکیے میں امن کیلیےکردجنگجو تنظیم PKK کو حکومت کی آفرترک کے صدر طیب اردوان کے قوم پرست اتحادی اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے سربراہ دولت بہچلی نے پارلیمنٹ میں حیران کن بیان دے دیا ۔ دولت بہچلی نے کہا کہ اگر کرد جنگجو تنظیم PKK کے قید رہنما عبداللہ اوجلان گروپ کی بغاوت ختم کرنے کا اعلان کر دیں تو انہیں ترکی کی پارلیمنٹ میں خطاب کی اجازت دی جا سکتی ہے اور ان کی رہائی کے امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے۔

یہ تجویز اس وقت سامنے آئی جب حالیہ ہفتوں میں اس 40 سال پرانے تنازعے کو ختم کرنے کے لیے نئی کوششوں کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ بہچلی نے واضح کیا کہ ایک نئے امن عمل کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ PKK کو بغیر کسی شرط کے ترک عدلیہ کے سامنے سرنڈر کرنا چاہئے اور سزائیں پوری کرنی چاہئیں۔ انہوں نے جمہوری اصلاحات کے غیر متعین نفاذ کی بھی تجویز پیش کی۔پی کے کے بانی عبداللہ اوجلان 1999 سے استنبول کے جنوب میں ایک جزیرے پر قائم جیل میں قید ہیں۔
یہ پیشکش اس لیے غیر معمولی ہے کہ بہچلی کے ماضی کے بیانات میں PKK، اوجلان اور پرو کرد ڈیموکریٹک DEM سیاستدانوں کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے رہے ہیں ۔PKK نے 1984 میں علیحدگی پسند تحریک کا آغاز کیا تھا، جس کے نتیجے میں 40,000 سے زائد افراد کی جان جا چکی ہے ۔ کرد جنگجو تنظیم کو ترکی، امریکا اور یورپی یونین نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔

پارلیمنٹ کے سیشن کے دوران بہچلی کے اس بیان کے بعد، ڈیموکریٹک پارٹی کے شریک سربراہ تولائے ہتیموغولاری نے کہا کہ ان کی پارٹی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبداللہ اوجلان کو تینتالیس مہینوں سے اپنے خاندان اور وکیلوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں