اسٹاک ہوم میں سمندری مچھلیوں کےجھیل میں داخل ہونے کیلیے سرنگ بنا دی گئی

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں بالٹک سمندر کے نمکین پانی کو مالیرین جھیل کے میٹھے پانی میں شامل ہونے کیلیے لاک سسٹم تعمیر کیا گیا ہے ، خاص بات یہ کہ اس لاک سسٹم میں سمندری مچھلیوں کے جھیل میں داخل ہونے کیلیے سرنگ بنائی گئی ہے۔ 380 سال سے مچھلیاں جھیل اور سمندر کے پانیوں میں آزادانہ طور پر تیرنے سے محروم تھیں، لیکن اب سلوسن لاک سسٹم میں مچھلیوں کی نقل مکانی کے لیے ایک نیا راستہ تیار کیا گیا ہے۔

یہ سرنگ خاص طور پر تیرنے میں کمزور مچھلیوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مالیرین جھیل میں مچھلیوں کی آبادی کو بڑھانا ہے ۔ یہ جھیل سویڈن کی تیسری سب سے بڑی جھیل ہے۔لاک کی تعمیر میں ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں سویڈن کی قدیم دفاعی دیواروں سے ملنے والے پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ دیواریں 1540 کی دہائی کی آثار قدیمہ کی کھدائی میں دریافت ہوئی تھیں۔سلوسن منصوبے کی کمیونیکیشن منیجر کے مطابق سرنگ کو دن کے وقت روشن رکھنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے

تاکہ قدرتی حالات کو زیادہ سے زیادہ نقل کیا جا سکے۔سرنگ کے ایک حصے میں ایک کیمرہ نصب کیا گیا ہے جو مچھلیوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرتا ہے جس پر کبھی کبھار مچھلیوں کے علاوہ دیگر سمندری مخلوق بھی گزرتے نظر آتی ہے۔سمندری پانی کو جھیل کے پانی میں داخل ہونے اور پانی کو محفوظ بنانے کیلیے جھیل میں موجود مختلف دروں کو کھولا اور بند کیا جاتا ہے ۔

پرانے شہر کے دوسری طرف صرف ایک کلومیٹر دور نوریسٹرم ہے، جو یورپ کی سب سے چھوٹی ندیوں میں سے ایک ہے اور مالیرین کو بالٹک سمندر سے جوڑتی ہے۔ یہاں مختلف مچھلیوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ شوقیہ ماہی گیروں کے لیے ایک مشہور مقام ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے