جرمنی اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتا رہے گا، چانسلر اولاف شولز
جرمن اپوزیشن کے رہنما فریڈرک میرٹز نے دعویٰ کیا تھا کہ جرمن حکومت اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی روکنے جا رہی ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے چانسلر اولاف شولز نے پارلیمنٹ میں کہا کہ "ہم نے ہتھیاروں کی سپلائی نہ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا” اور یہ کہ "ہم ہتھیار فراہم کرتے رہیں گے”۔میرٹز نے یہ بھی کہا کہ ہتھیاروں کی فراہمی سے انکار اور اقوام متحدہ میں جرمنی کے ووٹنگ رویے کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ یکجہتی میں دراڑیں پیدا ہوئی ہیں۔
جرمن وزارت تجارت کے مطابق، گزشتہ سال جرمنی نے اسرائیل کو 326.5 ملین یورو مالیت کے ہتھیاروں کی برآمدات کی منظوری دی، جو کہ 2022 کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ تھی۔ تاہم، اس سال کے ابتدائی چند ماہ میں برآمدات کی منظوری میں کمی آئی ہے، جنوری سے 21 اگست تک صرف 14.5 ملین یورو مالیت کے ہتھیاروں کی منظوری دی گئی۔نکاراگوا نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف کیس دائر کیا تھا، جس میں جرمن ہتھیاروں کی برآمدات کو چیلنج کیا گیا، مگر یہ کیس کامیاب نہیں ہوا۔
اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی کے معاملے پر جرمن حکومت میں بھی اختلافات ہیں۔ چانسلری اسرائیل کی حمایت کرتی ہے جبکہ گرین پارٹی کے ارکان، جو معیشت اور خارجہ امور کی وزارتیں سنبھالتے ہیں، غزہ میں جاری تنازع کے باعث اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔یورپ میں قانونی چیلنجوں کے باعث، اسرائیل کے دیگر اتحادیوں نے بھی ہتھیاروں کی برآمدات معطل یا روک دی ہیں، جو اس مسئلے کی پیچیدگی کو بڑھاتی ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں