راولاکوٹ میں کشمیرپریمیئر لیگ سے بڑا میلہ میڈیا کی نظروں سے اوجھل

رپورٹ: سعید صابری
آزاد کشمیرکاخطہ اپنی خوبصورتی اور امن کے اعتبار سے تودنیا بھر میں خاص شہرت رکھتاہے تاہم گزشتہ چند سال سے یہاں سیاحت اور کھیلوں کی سرگرمیاں بھی بھرپور شہرت کما رہی ہیں۔ کشمیرپریمیئرلیگ میں انٹرنیشنل کرکٹرزکی شرکت نے آزاد کشمیر کو دنیا کے سامنے ایک نئے انداز سے متعارف کروایا ،اس ایونٹ کو عالمی سطح پر کوریج بھی ملی لیکن رواں ماہ 14 اگست سے18 اگست تک یہاں فٹ بال کاایک بڑا اور تاریخی میلہ قومی و ریاستی میڈیا اور حکومت کی نظروں سے اوجھل رہ کرہی اختتام پذیر ہوگیا تاہم سوشل میڈیا پرہزاروں صارفین فٹبال ایونٹ کے کامیاب انعقاد اور آزادکشمیر کی ٹیم کو فائنل جیتنے پر مبارکباد دے رہے ہیں۔


پونچھ دھرتی کے خوبصورت شہر راولاکوٹ میں غازی ملت سردارمحمد ابراہیم خان کی یاد میں ایک فٹبال ٹورنامنٹ تسلسل کے ساتھ منعقد کروایاجارہاہے۔ گزشتہ چند سال سے اس ٹورنامنٹ میں عوام کی شرکت بڑی بھرپور رہی، غازی ملت فٹبال چیمپئن شپ کے سیزن فور میں چاروں صوبوں،اسلام آباد،گلگت بلتستان،آزادکشمیر اور غازی ملت فٹبال اکیڈمی کی ٹیموں نے شرکت کی۔ ایونٹ کا فائنل میچ آزادکشمیر اور اسلام آباد کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جس میں آزادکشمیر کی ٹیم نے اسلام آباد کوپنلٹی ککس پر شکست دے کرچیمپئن بننے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ آزاد کشمیر کی ٹیم گزشتہ سال بھی فائنل تک پہنچی تھی تاہم ایونٹ پنجاب کی ٹیم کے نام رہاتھا۔
اس بار فائنل میچ کی خاص بات 40 ہزار سے زائد تماشائیوں کی شرکت تھی۔ غازی ملت سپورٹس کمپلیکس کا خان اشرف سٹیڈیم شائقین سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا اور40 ہزارسے زائد افرادنے پرامن طریقے سے یہ میچ انجوائے کیا،خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی،شائقین کی اتنی بڑی تعداد اس سے پہلے آزادکشمیر میں کسی بھی میچ میں نہیں دیکھی گئی ۔ میچ کے دوران سٹیڈیم سے آزادی اور انقلاب کے نعرے بھی سنائی دیتے رہے ۔ کبھی نغموں کی گونج سے شرکاء کو محظوظ کرانے کا بندوبست کیاجاتا۔کشمیر کی ٹیم نے فائنل میچ جیتا توسٹیڈیم میں موجود لوگ دیوانہ وار گرائونڈ میں داخل ہو گئے اور اپنے ہیروز کو کندھوں پر اٹھالیا۔اس موقع پر زبردست آتش بازی بھی کی گئی۔


حیرت کی بات ہے کہ کشمیر پریمیئرلیگ کی تشہیرپر خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود گرائونڈزمیں تماشائی نہ ہونے کے برابر تھے اور سابق کپتان وسیم اکرم بھی اس بات کاگلہ کرتے ہوئے نظرآئے لیکن راولاکوٹ فٹبال میلہ میں بغیر تشہیر کے عوام کا جم غفیرپہنچ گیا اور میڈیا پر اتنے بڑے ایونٹ کی کوئی چھوٹی سے خبر بھی نہ دیکھی گئی۔قومی سطح کے ٹی وی چینلز کے ساتھ آزادکشمیر سے شائع ہونے والے اخبارات میں بھی یہ ایونٹ جگہ نہ بنا پایا البتہ سوشل میڈیا پر صارفین آزادکشمیر کی ٹیم اور ٹورنامنٹ کے منتظمین کو مبارکبادیں پیش کررہے ہیں۔
ساقی اداس نامی ایک صارف نے میڈیا پر کوریج نہ ملنے سے متعلق سوال پر لکھا ہماراصبر ہی سب سے بڑی خبر ہے۔
سرمدگلبہارچودھری نامی صارف نے لکھا کہ کھیل کے میدان ہوں یاتعلیم کے ، عوامی مفاد کی کوئی تحریک ہو یاسیاست ،راولاکوٹ کے لوگ سب سے آگے ہوتے ہیں۔
دلدارحیدر نے لکھاتيس ہزارسے زائد لوگوں نے بغیر کسی سیکیورٹی کے آزادی سے فٹ بال میچ دیکھا اوراسلام آباد کی ٹیم سے فائنل جیت کر آزادی کے نعرے بھی لگائے پھر بھی لوگ کہتے ہیں ہم آزاد نہیں،او بھئی یہی توآزادی ہے،اگر یہی میچ سرینگر کے بخشی سٹیڈ یم میں ہوتا اور آپ ممبئی یا دہلی کی ٹیم کو یوں ہرا کر آزادی کے نعرے لگاتے اور ساتھ کشمیر کا پرچم بھی لہراتے تو لگ پتا جاتا کہ آزادی اور غلا می میں کیا فرق ہے۔ سردار محسن علی عباسی نے سٹیڈیم میں لوگوں کی گنجائش اور شرکاء کی تعداد کے دعوئوں پرسوالات اٹھائے۔ رضوان خان نامی صارف نے اتنے بڑے ایونٹ میں آزاد کشمیر کی کسی حکومتی شخصیت کی عدم شرکت پر تنقیدکرتے ہوئے کہا لگتاہے اسمبلی ستوپی کر سورہی ہے۔
سردار بلال نے لکھا ظہرازاکرم سمیت ان کی پوری ٹیم اس کامیاب ایونٹ پر مبارکباد کی مستحق ہے ہم کوٹلی سے روزانہ یہاں آکر میچ کو انجوائے کرتے رہے۔
سردارعاصم صادق سوشل میڈیا پر اس ایونٹ کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتے رہے وہ لکھتے ہیں کہ میں آزادکشمیر ٹیم کے کپٹین عمر جاوید کو ارشد ندیم سے تو نہیں ملاؤں گا لیکن نواحی گاؤں تراڑ سے تعلق رکھنے والے عمر جاوید نے بغیر کسی حکومتی سرپرستی ،کوچنگ اور سپورٹ کے نام بنایا ہے۔ سیمی فائنل میں پنجاب کی پینلٹی ککس کو ناکام بنانے والا یہی نوجوان تھا۔ یہ کوئی گول کیپر نہیں ہے لیکن جیت کی لگن اور اعتماد ایسا کہ مخالف ٹیمز کیلئے "فائر وال” بن گیا۔فائنل مرحلے میں ایک دفعہ پھر سے عمر جاوید کے نصیب میں ہیرو بننے کا موقع آیا۔ ہزاروں کے کرائوڈ کا پریشر ایسا کہ ٹانگیں کانپ جائیں لیکن یہ تو اس نازک مرحلے پر بھی کھیل کو انجوائے کرتے اور کرائوڈ کو انگیج کرتا نظر آیا۔ اس نے کوئی اولمپکس کا میڈل نہیں جیتا لیکن گلگت سے بلوچستان تک سب کو بتا دیاکہ ناکافی سہولیات کے باوجود کشمیر کا ٹیلنٹ کیا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے