بدھ کو2034 ورلڈ کپ کی میزبانی سعودی عرب کو ملنے کا امکان
سعودی عرب کی 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کی بولی کو کل فیفا کی غیرمعمولی کانگریس میں حتمی طور پر منظور ہونے کا امکان ہے۔ سعودی عرب واحد ملک تھا جس نے مقررہ وقت تک ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لیے باضابطہ طور پر درخواست جمع کرائی۔
فیفا نے ایشیا اور اوشیانا کے ممالک سے 2034 ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے 31 اکتوبر تک درخواستیں طلب کی تھیں اور سعودی عرب نے 4 اکتوبر کو اعلان کے چند منٹ بعد ہی اپنی بولی جمع کرا دی تھی ۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب نے 2035 خواتین ورلڈ کپ کی میزبانی کی دلچسپی کا بھی اظہار کیا ہے۔سعودی عرب نے حال ہی میں 92,000 تماشائیوں کی گنجائش والے کنگ سلمان اسٹیڈیم کے ڈیزائن منصوبے بھی پیش کیے ہیں ، جو ریاض میں 2034 ورلڈ کپ کے لیے مرکز ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی افریقا کے خلاف ٹی 20 میچ کیلیے ٹیم کا اعلان
سعودی ورلڈ کپ بولی کے سربراہ حماد البالوی نے کہا کہ ملک نے انسانی حقوق میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اس کا مقصد 48 ٹیموں کے اس ایونٹ میں پہلے سے زیادہ شائقین کو متوجہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق، یہ اصلاحات صرف ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے نہیں بلکہ وژن 2030 کے تحت سعودی معاشرتی اور اقتصادی ڈھانچے کی تبدیلی کا حصہ ہیں۔
دوسری طرف ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اسپورٹ اینڈ رائٹس الائنس نے فیفا پر زور دیا ہے کہ سعودی عرب کو 2034 ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے منتخب کرنے سے پہلے انسانی حقوق میں بڑی اصلاحات کی جائیں۔حماد البالوی نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں ورلڈ کپ ایک محفوظ اور دوستانہ ماحول میں منعقد ہوگا، جیسا کہ ہمسایہ قطر میں 2022 کے ورلڈ کپ کے دوران ہوا تھا۔ انہوں نے خواتین کے فٹبال اور اس کی تیزی سے ترقی پذیر بنیادی ڈھانچے کو بھی ملک میں جاری تبدیلیوں کی علامت قرار دیا۔فیفا کی اسی کانگریس میں اسپین، پرتگال اور مراکش کے 2030 ورلڈ کپ کی میزبانی کے منصوبے کی بھی منظوری متوقع ہے۔

یہ پہلا موقع ہوگا جب ورلڈ کپ تین براعظموں اور چھ ممالک میں منعقد ہوگا، ٹورنامنٹ کے سو سال مکمل ہونے کا جشن منانے کیلیے ٹورنامنٹ کے ابتدائی تین میچز یوراگوئے، ارجنٹینا اور پیراگوئے میں ہوں گے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں