دنیا کا وہ پہلا ملک جہاں جلد صرف الیکٹرک گاڑیاں چلتی نظر آئیں گی

دنیا میں پہلی بار ایک ملک میں پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کا استعمال ختم ہونے کے قریب ہے۔نارویجن پبلک روڈز ایڈمنسٹریشن کے نئے ڈیٹا کے مطابق یورپی ملک ناروے میں 2025 کے دوران فروخت ہونے والی 93 فیصد سے زائد گاڑیاں الیکٹرک ہیں۔

2017 میں نارے نے اعلان کیا تھا کہ 2025 میں 100 فیصد ایسی گاڑیوں کی فروخت کو یقینی بنایا جائے گا جو بجلی پر دوڑتی ہوں گی۔اب ہر 10 میں سے 9 نئی گاڑیاں بجلی پر کام کرتی ہیں اور بظاہر یہ ہدف حاصل ہونے کے قریب ہے۔

ناروے الیکٹرک وہیکل ایسوسی ایشن کے مطابق ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں مجموعی طور پر 30 فیصد مسافر گاڑیاں الیکٹرک ہیں جبکہ دارالحکومت اوسلو میں یہ شرح 40 فیصد ہے۔ابھی وہاں پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔

ستمبر 2024 کے ڈیٹا کے مطابق ناروے میں 28 لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 7 لاکھ 54 ہزار 302 بجلی پر چلتی ہیں جبکہ 7 لاکھ 53 ہزار 905 گاڑیاں پیٹرول پر چلتی ہیں۔ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن کی تعداد 10 لاکھ کے قریب ہے مگر ان کی فروخت میں بہت تیزی سے کمی آرہی ہے۔

حکومت کی جانب سے 2025 میں ڈیزل کی بجائے الیکٹرک بسوں کو چلانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جبکہ 75 فیصد بڑی گاڑیوں جیسے ٹرک وغیرہ کو 2030 تک ماحول دوست توانائی پر چلایا جائے گا۔

ناروے کی وزارت ٹرانسپورٹ کی عہدیدار نے بتایا کہ روایتی ایندھن کی بجائے الیکٹرک گاڑیوں پر منتقلی کا عمل کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس حوالے سے ٹیکس مراعات اور دیگر سہولیات فراہم کی ہیں جبکہ انفرا اسٹرکچر پر بھی کام کیا گیا ہے۔ ناروے دنیا کا پہلا ملک بننے والا ہے جہاں مسافر الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال زیادہ ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ناروے خام تیل اور گیس نکالنے والا ایک بڑا ملک ہے مگر وہاں ایسی گاڑیوں کی فروخت کو ہدف بنایا گیا ہے جو نقصان دہ گیسوں کا اخراج نہیں کرتیں۔

وزارت ٹرانسپورٹ کی عہدیدار نے بتایا کہ ہم یہ اعتراف کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ٹرانسپورٹ کا کردار کافی اہم ہے اور 30 فیصد آلودہ گیسوں کا اخراج ٹرانسپورٹ سیکٹر کی جانب سے کیا جاتا ہے تو اس حوالے ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہم ٹرانسپورٹ سیکٹر کے دیگر شعبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے