ایک نوجوان کے قتل پر البانیہ نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی
البانیہ نے ٹک ٹاک پر ایک سال کی پابندی کا اعلان کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق البانوی حکومت کا یہ اقدام گزشتہ ماہ ایک نوجوان کے قتل کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں دو لڑکوں میں سوشل میڈیا پر جھگڑا ہوگیا تھا جس میں ایک نے دوسرے کو تیز دھار آلے سے قتل کردیا۔
سوشل میڈیا پر قتل کی حمایت کرنے والوں میں حیرت انگیز طور پر کم عمر بھی شامل تھے جس کے بعد بچوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔
وزیر اعظم ایدی راما نے کہا کہ پابندی جو کہ اسکولوں کو محفوظ بنانے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے، اگلے سال کے اوائل سے نافذ العمل ہو جائے گی۔ یہ اعلان ملک بھر میں والدین اور اساتذہ کے کے گروپوں کے ساتھ وزیر اعظم کی 1,300 ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے24-2023 میں 177 ٹیلی کام لائسنس جاری کیے
ایدی راما نے کہا کہ ایک سال کے لیے ہم اسے مکمل طور پر سب کے لیے بند کر دیں گے۔ البانیہ میں کوئی ٹک ٹاک نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ فرانس، جرمنی اور بیلجیئم سمیت کئی یورپی ممالک نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔
ٹک ٹاک کو نشانہ بنانے والے دنیا کے سخت ترین ضابطے آسٹریلیا سے آئے ہیں جس نے نومبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی منظوری دی تھی۔
ایدی راما نے سوشل میڈیا اور خاص طور پر ٹک ٹاک کو اسکولوں کے اندر اور باہر نوجوانوں میں تشدد کو ہوا دینے کا ٓذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں