چین میں 700 میٹر زیر زمین فزکس لیب کی تیاری
چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں زیر زمین فزکس ریسرچ سینٹر، Jiangmen Underground Neutrino Observatory (JUNO)، کی تعمیر مکمل ہونے کے قریب ہے۔ یہ منصوبہ گزشتہ 10 سال سے جاری ہے اور اس کی تعمیر جلد ہی مکمل ہوگی۔

JUNO کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ نیوٹرینوز میں سے کون سا قسم کا نیوٹرینو سب سے زیادہ ماس رکھتا ہے۔ نیوٹرینوز ایک خاص قسم کی ذرات ہیں جو بغیر کسی رکاوٹ کے عام اشیاء سے گزر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں پکڑنا یا معلوم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ انٹارکٹیکا میں واقع IceCube Neutrino Observatory کے مطابق، ہر سیکنڈ میں تقریباً 100 ٹریلین نیوٹرینوز انسانی جسم سے گزرتے ہیں۔JUNO کے نائب منتظم کے مطابق، نیوٹرینو ماس کو سمجھنا طویل عرصے سے فزکس کے ایک معمہ رہا ہے۔ یہ سینٹر اس معمہ کو حل کرنے

میں مدد کرے گا، جو کہ قدرت کے بنیادی اصولوں کی تفہیم کے لیے انتہائی اہم ہے۔اگرچہ اس سائنسی کامیابی کے فوری عملی استعمالات واضح نہیں ہیں، کئی ممالک نیوٹرینو تحقیق کے ذریعے کائناتی رازوں کو سمجھنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

امریکا میں بھی 3 ارب ڈالر کی لاگت سے Deep Underground Neutrino Experiment (DUNE) منصوبہ چل رہا ہے۔JUNO کے چیف سائنسدان وانگ کا کہنا ہے کہ چین سب سے پہلے نیوٹرینو ماس ہائیرارکی کے نتائج حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا میں جاری منصوبہ ہم سے چھ سال پیچھے ہے، جبکہ فرانس اور جاپان کے منصوبے دو یا تین سال بعد آئیں گے۔JUNO کو سورج اور سپر نووا کا مطالعہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا، جو کہ کائناتی تحقیق میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں