چیئرمین کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز، الطاف حسین وانی کا او آئی سی کے سربراہ کے نام خط

اسلام آباد: چیئرمین کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز الطاف حسین وانی نے بھارتی پارلیمنٹ میں حال ہی میں پیش کردہ وقف بل (ترمیم) پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو اس بل کے تئیں مسلم کمیونٹی، ان کے مذہبی، سماجی اور سیاسی حقوق پر پڑنے والے ممکنہ اثرات سے آگاہ کیا ہے۔

اسلامی تعاون کی تنظیموں کے سیکرٹری جنرل حسین برہم طہٰ کو لکھے گئے اپنے خط میں، الطاف حسین وانی نے کہا، "متنازعہ بل وقف املاک کے انتظام اور اسکی خودمختاری کے لیے اہم خطرات کا باعث ہے، جو کئ دہائیوں سے مساجد، اسکولوں اور سماجی خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے اہم وسائل کے طور پر کام کرتے ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل میں بیان کردہ ملکیت کے قوانین میں تبدیلیوں نے ہندوستان زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں میں تشویش کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے اندر اور باہر کے مشہور مذہبی اسکالرز نے بل کی مخالفت کی ہے اور بی جے پی حکومت کے اس اقدام کو خود مختار اداروں پر اپنا قبضہ جمانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کی والدہ ماجدہ کی برسی، وزیراعظم آزاد کشمیر نے والدہ محترمہ کی قبر پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی

خط میں کہا گیا ہے کہ "مالکانہ اصولوں اور انتظامی نظام میں کسی قسم کی تبدیلی مسلم کمیونٹی کے مذہبی اور ثقافتی حقوق کو نقصان پہنچا سکتی ہے، خاص طور پر کشمیر جیسے حساس خطوں میں، جہاں ایسے اداروں کے وجودکو برقرار رکھنے کی اہم ترین ضرورت ہے ان کی صلاحیت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے”، خط میں مزید کہا گیا کہ اس اقدام کے پیچھے واحد مقصد اسے (وقف بورڈ) کو ایک بے وقعت اور بے اختیار ادارہ بنانا ہے جس میں اہم معاملات پر فیصلے لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

خط میں ترمیمی بل کے دیگر پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایکٹ کا نام تبدیل کرنا اس کی تاریخی اہمیت کو کمزور کر دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف بل میں کئی ‘متنازعہ دفعات’ تجویز کی گئی ہیں، جن میں بورڈ کی ساخت کو تبدیل کرنا اور غیر مسلموں کو وقف بورڈز میں خدمات انجام دینے کی اجازت دینا شامل ہے ۔

مزید برآں، خط میں کہا گیا ہے کہ سیکشن 3 کے تحت WAQFs کی نئی تعریف ان کی روایتی قانونی حیثیت کو تبدیل کرتی ہے، ممکنہ طور پر ان کے بنیادی تحفظات کو کمزور کرتی ہے۔

وقف بورڈز کے خلاف ہندوستانی حکومت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے، وانی نے اپنے خط میں کہا کہ ہندوستانی حکومت کی طرف سے یہ دعوے کیے جارہے ہیں کہ وقف ریلوے اور فوج کے بعد تیسری سب سے بڑی جائیداد رکھنے والا ہے، سراسر گمراہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف تین ریاستوں تامل ناڈو اور آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں ہندو مذہبی اداروں کے پاس 10,37,358 ایکڑ اراضی ہے۔

بل میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، خط میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ، "سیکشن 107 اور 108 کو حذف کرنے سے WAQF بورڈز کو مزید کمزور بناتا ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ یہ بل غیر منصفانہ قانونی تفاوت پیدا کرتا ہے، مذہبی حقوق کو ختم کرتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ وقف بورڈز کی تشکیل کو تبدیل کرنے کی ہندوستانی کوشش اہم فیصلہ سازی کے عمل میں مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر ایسی پالیسیاں پیدا ہوں گی جو کمیونٹی کے مفادات کی عکاسی نہیں کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "یہ اخراجی پالیسی مزید پسماندگی کا خطرہ کے باعث بن سکتی ہے، مذہبی آزادیوں کو کمزور اور سماجی ہم آہنگی میں خلل ڈال سکتی ہیں ۔

، انہوں نے مزید کہا کہ وقف کے انتظام پر بے کار قانونی اور طریقہ کار کے تقاضوں کے نفاذ سے مقامی ٹرسٹیز اور کمیونٹی لیڈروں کے لیے غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹیں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پیچیدگیاں تنازعات کو جنم دے سکتی ہیں، جو کشمیر جیسے خطوں میں پہلے سے ہی نازک سماجی و سیاسی ماحول میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں، جہاں مذہبی شناخت اورسیاسی حقائق کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

"وقف کی جائیدادوں پر کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ خطے میں فرقہ وارانہ جھگڑے کو گہرا کر سکتی ہے”، انہوں نے کہا ۔”ہندوستان میں اقلیتی برادریوں کو متاثر کرنے والی پالیسیوں سے متعلق وسیع تر خدشات کے پیش نظر، یہ ضروری ہے کہ مسلم رہنما بامعنی طور پر اس بل پر بات چیت میں مصروف ہوں”، KIIR کے چیئرمین نے اسلامی تعاون کی تنظیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ چوکس رہیں اور ہندوستان میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کی وکالت کریں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے